جاوید لطیف کو اسمبلی سے نہ نکالنے کا مطلب نواز شریف کی سرپرستی ہو گا’ عمران خان

نوشہرہ: ( ٹیسکو نیوز) عمران خان نے مراد سعید سے متعلق جاوید لطیف کے الفاظ پر معافی کا مطالبہ کر دیا، کہتے ہیں ان کا کوئی رکن یہ حرکت کرتا تو پارٹی سے ہی نکال دیتے، ایکشن نہ ہوا تو سمجھیں گے ن لیگی رکن اسمبلی کو قیادت کی شہ حاصل ہے۔نوشہرہ میں خطاب کرتے ہوئے کپتان نے پھر مخالفین پر یلغار کر دی۔ انہوں نے ن لیگ کے منصوبوں پر خوب تنقید بھی کی۔ مراد سعید سے متعلق الفاظ پر بھی خوب کلاس لی اور معافی کا مطالبہ کیا، کہتے ہیں کوئی کھلاڑی ایسے بولتا تو کیا کرتے؟ یہ بھی واضح کر دیا نواز شریف معافی مانگیں ورنہ سمجھیں گے وہ جاوید لطیف کے پیچھے ہیں۔
عمران خان نے سڑکوں کے افتتاح پر وزیر اعظم کو ہدف تنقید بنایا اور پرانا الزام بھی دہرایا، بولے قومیں سڑکیں اور پل بنانے سے نہیں بنتیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پولیس کو غیرسیاسی کر دیا۔ دیگر صوبے بھی تقلید کریں۔
بعد ازاں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پنجاب اسمبلی میں سپیکر کی جانب سے تحریک انصا ف کے رکن میاں اسلم اقبال کے لئے شٹ اپ کے الفاظ کہنے کی بھرپور مذمت کی۔ اپنے ٹویٹر پیغام میں عمران خان کا کہنا تھا کہ سپیکر کا رویہ قابل مذمت اورغیرپارلیمانی ہے، سپیکر نے میاں اسلم اقبال کے لئے جو الفاظ استمعال کئے وہ غیرپارلیمانی ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی پارلیمنٹ میں سپیکر کی جانب سے کسی معزز ممبر کے لئے شٹ اپ جیسے الفاظ نہیں سنے۔