مردم شماری کا بجٹ 18 اعشاریہ 5 بلین ہے، غلط معلومات کو جرم تصور کیا جائیگا’

اسلام آباد: ( جیوعوام ) وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ مردم شماری کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دینے کیلئے یہ بریفنگ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی توجہ کا مرکز عوامی فلاح کے حوالے سے اقدامات کرنا ہیں، آخری مردم شماری بھی وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت میں ہی کروائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے ملک بھر میں سکیورٹی کے حوالے سے جاری آپریشنز کی وجہ سے مردم شماری پہلے نہیں کروائی جا سکی۔ انہوں نے بتایا کہ مردم شماری کا کل بجٹ 18 اعشاریہ 5 بلین ہے اور مردم شماری 15 مارچ سے 25 مئی تک جاری رہے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری میں دہری شہریت والوں کو بھی گنا جائے گا اور پاکستان میں پہلی بار ٹرانس جینڈرز کو بھی گنا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مردم شماری کے عمل میں صرف سرکاری ملازمین کو استعمال کیا جائے گا، مقامی افراد ہی اپنے علاقے کے لوگوں کی خانہ و مردم شماری میں حصہ لیں گے۔ بے گھر افراد کو بھی گنا جائے گا اور تمام ملازمین اپنی ڈیوٹی کے علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مردم شماری کے بغیر عوام کی حقیقی نمائندگی سامنے نہیں آ سکتی۔انہوں نے بتایا کہ غلط معلومات دینے پر 15 ہزار روپے جرمانہ اور 6 ماہ تک قید ہو سکتی ہے، ایک لاکھ 18 ہزار 9 سو 18 افراد کو تربیت دی گئی ہے، ہر پاکستانی کو گنا جائے گا اور ہمیں نادرا کا مکمل تعاون حاصل ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مردم شماری ایک آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارا ملک چھٹی خانہ و مردم شماری کیلئے مکمل طور پر تیار ہے تاہم چونکہ ہم 19 برس بعد اس عمل سے گزرنے جا رہے ہیں تاہم یہ ہم سب کیلئے سیکھنے کا موقع بھی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلح افواج کے شکرگزار ہیں کہ وہ مردم شماری کے عمل کو پرامن بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بلوچستان کے سینسس کمیشن کے متعلق تمام قیاس آرائیاں غلط ہیں۔مریم اورنگزیب نے یہ بھی بتایا کہ افغان مہاجرین کی تعداد کیا ہے؟ گنتی کی جائے گی اور حلقہ بندیاں بھی مردم شماری کے تحت ہی کی جائیں گی۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے فیصلہ کیا کہ مردم شماری میں پاک فوج کی خدمات لی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی مسائل کے باعث دو مرحلوں میں مردم شماری کروائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر اینیومیریٹرز کے ساتھ ایک سپاہی ہو گا۔ آرمی چیف نے ہدایت کی ہے کہ مردم شماری کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔ مردم شماری کے عمل کو سموتھ اور ٹرانسپیرینٹ بنایا جائے گا۔ جو سپاہی اینیومیریٹر کے ساتھ جائے گا اس کا نادرا سے لنک ہو گا، جھوٹ بولنے یا غلط معلومات دینے کو جرم تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں دو لاکھ افراد حصہ لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ماسٹر ٹرینرز نے ہر شہر میں جا کر اینیومیریٹرز کو ٹریننگ دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمارا کوئی سپاہی یا اینیومیریٹر اکیلا نہیں ہو گا اس کے ساتھ سکیورٹی کا پورا نیٹ ورک موجود ہو گا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مردم شماری کے عمل کو سکیور بنانے میں تمام سکیورٹی ادارے حصہ لیں گے، ٹی ڈی پیز کی پہلے سے رجسٹریشن ان کے علاقوں کے حساب سے ہو چکی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع سکیورٹی اداروں کو دی جائے، مسلح افواج ہر خطرے سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاری کر چکی ہیں۔