اسلام آباد: سودی نظام نے ملک کو تباہ کردیا،چیف جسٹس شرعی کورٹ

اسلام آباد: ( جیوعوام ) سودی نظام نے ملک کو تباہ کردیا،چیف جسٹس شرعی کورٹوفاقی شریعت عدالت کا کہنا ہے کہ سودی نظام نے نہ صرف معاشرے کو کھوکھلا کیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں لوگوں کی زندگی بھی اجیرن ہوگئی ہیں۔اسلام آباد کی وفاقی شرعی عدالت میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی جانب سےسودی نظام کے خلاف دائر درخواست پر کیس کی سماعت ہوئی اس موقع پر سراج الحق بھی عدالت میں موجود تھے شرعی عدالت کے چیف جسٹس ریاض احمد خان کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے سماعت کیدوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون سازوں نے ربا اور سود کے الفاظ تو استعمال کئے لیکن اسکی تعریف متعین نہیں کی دیکھنا یہ ہے کہ حکومت سے حکومت ٹرانزیکشن میں سود ہے یا نہیں یا حکومت سے انفرادی پینشنرکی ٹرانزیکشن میں سود تو شامل نہیں ہے۔جسٹس ریاض نے کہا کہ لوگ سود پر قرضے لے رہے ہیں جس سے ان کی زندگیاں اجیرن ہوچکی ہیں سودی نظام نے ملک کو تباہ اوروسیع پیمانے پر تباہی مچا رکھی ہیں پورے ملک کو سودی نظام پر چلایا جارہا ہےجس سے معاشرہ کھوکھلا ہوگیا ہے شرعی کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس کیس میں اسٹیٹ بینک نے اپنی معروضات میں ہمارے دائرہ اختیار پرسوال اٹھایا ہے لیکن ہم آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرینگے۔چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کی استدعا کے ساتھ سپریم کورٹ نے بھی شرعی عدالت کوربا اورمنافع کی تعریف کا کہا ہےبعد ازاں کیس کی سماعت چودہ روز کے لئے ملتوی کردی گئی۔کیس کی سماعت کےبعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ سود کو ختم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،سودی نظام کا خاتمہ آئین پاکستان کا تقاضا ہے یہ استحصالی نظام اور یہودیوں کا تحفہ ہے سودی نظام میں رہتے ہوئے ترقی و خوشحصالی نہیں آسکتی اسی سودی نظام نے ہمارے معاشی نظام کو تباہ و برباد کردیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں