واجبات ادائیگی کی ضمانت مانگنے والی آئی پی پیز تصفیے کیلیے طلب

کراچی ( ٹیسکو نیوز ) حکومت سے 48 ارب سے زائد کی ادائیگی کے لیے ضمانت طلب کرنے والے جن 13 انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے حکومت کو نوٹس دیے تھے ان کمپنیوں کو پی پی آئی بی اسلام آباد دفتر میں مسئلے کے حل کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
پی پی آئی بی ذرائع کے مطابق حکومت نے 50 پاور پروڈیوسروں کے لیے 30 ارب روپے جاری کیے ہیں جو حکومت کے ذمے 444 ارب روپے کے واجبات کا حصہ ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان 13 پاور کمپنیوں کو 30 ارب روپے میں سے صرف 13.440ارب روپے دیے گئے ہیں حالانکہ ان کمپنیوں نے حکومت کو 48 ارب روپے ادائیگی کا نوٹس دیا تھا۔
واضح رہے ک ہ1994 کی پاور پالیسی کے تحت قائم 15 آئی پی پیز کو 12.842ارب روپے جاری کیے گئے ہیں حالانکہ کہ ان کے واجبات کا حجم بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے 3 آئی پی پیز نے حکومت سے ضمانت طلب کرلی تھی انہیں مجموعی طور پر 3.122ارب روپے دیے گئے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ حکومت کو نادہندگی کے مسئلے کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ نادہندگی سے بچنے کے لیے کوئی انتظام نہیں کررہی ہے۔حکومت 1994کے تحت قائم کی جانے والی دو آئی پی پیز کو پاکستان اسٹیٹ آئل کے ذریعے فرنس آئل فراہم کرتی ہے ان میں کیپکو اور حبکو شامل ہیں۔ آئل کی فراہمی کے بعد دباؤ آئل فراہم کرنے والی کمپنی پر آجاتا ہے جبکہ حکومت پی ایس او کو واپس ادائیگی نہیں کرتی۔ حکومت نے 13 انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز) کمپنیوں کو جو 2002 کی پاور پالیسی کے تحت قائم کی گئی تھیں ان کے لیے جزوی ادائیگی کی مد میں 13 ارب روپے جاری کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت ان کمپنیوں سے جزوی ادائیگی کے ذریعے یہ توقع کررہی ہے کہ پاور کمپنیاں ادائیگی کے لیے دیے جانے والے حکومتی نادہندگی کے نوٹس کو واپس لیں گی اور حکومت نادہندہ ہونے سے بچ جائے گی۔ ذرائع نے کہا کہ یہ معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے ایسے ہی چل رہا ہے کہ جب کبھی ان کمپنیوں نے نادہندگی کی صورت میں ادائیگی کے لیے حکومتی ضمانت طلب کی حکومت نے جزوی ادائیگی کردی اور جب یہ نوٹس واپس لے لیے جاتے ہیں تو حکومت ایک بار پھر ادائیگیوں میں تاخیر شروع کردیتی ہے۔ تاہم حالیہ صورت حال میں معلوم نہیں ہے کہ پاور کمپنیاں کیا حکمت عملی اختیار کریں گی۔
یاد رہے کہ یہ ملاقات 13 مارچ کو ہوگی جس میں ادائیگی کے مسائل سمیت دیگر معاملات کو دور کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں