پاناما کیس پر سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے قبول کریں گے: (ن) لیگ

پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاناما کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق آئے گا۔ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ سنائے گی قبول کریں گے۔

اسلام آباد: ( جیوعوام ) مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاناما کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی تحریک انصاف کا پروپگیںڈا جاری ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف اس سے پہلے بھی بڑے بڑے کٹھن امتحانوں سے گزر چکے ہیں۔ وزیر اعظم کو استثنا حاصل ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا اور ان کی جانب سے آج تک کسی ادارے پر اثر انداز ہونے والا بیان نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اعلیٰ عدلیہ پر پورا اعتماد ہے، پاناما کیس کا جو بھی فیصلہ آیا اسے قبول کریں گے۔ ہمیں امید ہے پاناما کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب اپنے حق میں فیصلہ نہ آنے پر عمران خان بہتان تراشی کرتے ہیں۔ تحریک انصاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر (ن) لیگ کیخلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کی جانب سے پہلے دھاندلی کا شور مچایا گیا اور پھر پاناما پر سیاست چمکائی گئی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ خان صاحب کو فیتے کٹنے کی بہت تکلیف رہتی ہے۔ 2013ء کے مقابلے میں آج کا پاکستان بہت تیز اور تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹوں کا شمار دنیا کی بہترین مارکیٹوں میں ہو رہا ہے۔ عالمی ادارے بھی پاکستانی معیشت کے معترف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں 18 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ حکومت آج بجلی کی لوڈشیڈنگ صرف 4 گھنٹے پر لے آئی ہے۔ 19 سال بعد پاکستان میں مردم شماری نواز شریف کے دور میں ہی ہو رہی ہے۔

اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماء دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف نے ہمیشہ آئینی اداروں کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان نے ایک چینل پر کہا کہ اگر نواز شریف بری ہونگے تو باعزت بری نہیں ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ابھی پاناما کیس کا فیصلہ نہیں آیا اور الیکشن کا محاذ کھول دیا گیا ہے۔ جان بوجھ کر سوچی سمجھی سازش کے تحت زہر اگلا جا رہا ہے۔ حالانکہ اصل حقائق یہ ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف کا پاناما لیکس میں کہیں نام نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں