پاکستان کی چھٹی مردم شماری، کیا کیا شمار ہوگا؟

اسلام آباد ( ٹیسکو نیوز) پاکستان 19 سال بعد ہونے والی مردم شماری کی تیاریوں میں مصروف ہے ، آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک میں یہ مردم شماری کن حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے ، ملک میں نظر انداز کی جانے والی خواجہ سرا برادری کے مطابق پاکستان کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مردم شماری میں مخنث افراد کو علیحدہ سے شمار کیا جائے گا۔ کثیرالنسلی افراد کے مسکن پاکستان میں زبان کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ، تاہم اس مردم شماری میں ملک میں بولی اور سمجھی جانے والی تقریباً 70 زبانوں میں سے صرف 9 زبانوں کو شامل کیا جائے گا ۔

قلیل آبادی والے علاقے گلگت بلتستان کی کسی علاقائی زبان کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی گجراتی کو شامل کیا گیا ہے ۔ پاکستان میں ہونے والی چھٹی مردم شماری ملک میں موجود اقلیتی برادری بالخصوص عیسائیوں اور ہندوؤں کی حقیقی تعداد سامنے لائے گی ۔ مردم شماری کے دوران شہری خود کو مسلمان، عیسائی، ہندو یا احمدی ہونے کی حیثیت سے بیان کر سکیں گے ۔ ان چار انتخابات کے علاوہ انہیں خود کو ‘‘شیڈولڈ طبقے کا رکن’’ بیان کرنے کا آپشن حاصل ہو گا، جس میں پسماندہ اور نچلی ذات کی ہندو برادری کے افراد و دیگر شامل ہوں گے ۔

مردم شماری کے فارم کے ایک خانے میں شہریوں سے یہ سوال بھی کیا جائے گا کہ ان کے گھر میں موجود ٹوائلٹس کی تعداد کتنی ہے ۔ اس سوال کی ضرورت اس لیے بھی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی 40 فیصد آبادی کو ضروری حاجات کے لیے ٹوائلٹ میسر نہیں۔ قومیت کے خانے میں شہریوں کے لیے دو آپشنز پاکستانی یا غیر ملکی موجود ہوں گے ۔ پاکستانی فوج قومیت کے حوالے سے مزید باریک بینی سے جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی اہم وجہ ملک میں موجود افغان مہاجرین کی بڑی تعداد ہے ۔ دوسری جانب اندازاً 60 لاکھ پاکستانی جو بیرون ملک ملازم ہیں وہ مردم شماری کا حصہ نہیں بن پائیں گے ۔ اندرون ملک ہجرت کے حوالے سے بھی کوئی معلومات اکٹھی نہیں کی جائیں گی، جو درحقیقت کسی صوبے کی سیاسی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے ضروری ہے ، جہاں معاشی وجوہات کی باعث لوگوں کی بڑی تعداد منتقل ہوئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں