40 ہزار کا بانڈ بجٹ کی تیاری کا حصہ ؟

لاہور : ( ٹیسکو نیوز ) وفاقی حکومت کے پاس آئندہ بجٹ بنانے کیلئے پیسہ نہیں ہے جبکہ بیرونی قرضوں کی اقساط بھی واجب الادا ہیں لہٰذا چھ ماہ کیلئے متعارف کروائے گئے انعامی بانڈز متعدد مقاصد کے حصول کیلئے متعارف کروائے گئے ہیں ۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے چالیس ہزار کے ’’وائٹنر بانڈز‘‘ کی انعامی رقم زمینی حقائق کے مطابق نہیں ، ان بانڈز میں پہلا انعام آٹھ کروڑ روپے جبکہ تین انعام تین تین کروڑ کے ہیں اور ہر چھ ماہ بعد صرف بڑے انعامات اٹھارہ سے بیس کروڑ روپے کے ہونگے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کواگلے چھ ماہ کیلئے پیسوں کی اشد ضرورت ہے ، بجٹ خسارہ پورا کرنا ہے جبکہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کی اقساط بھی سر پر ہیں، علاوہ ازیں سوئس بینکوں سے کرپشن کے پیسے کے حوالے سے ہونیوالے معاہدے سے قبل مافیا کو سہولت بھی فراہم کی جائیگی ۔

اس حوالے سے معروف ماہر معیشت ڈاکٹر قیس اسلم نے “دنیا” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانڈز کی انعامی رقم بہت زیادہ رکھی گئی ہے جس کے نتیجے میں سارا کالا دھن اس میں منتقل ہو جائے گا اور مافیاز ان بانڈز کی پوری پوری سیریز خرید لیں گے اور کسی بھی سرمایہ کاری میں اتنا مارجن نہیں کہ چھ ماہ بعد اصل رقم دو گنا ہو جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ جون میں آئیگا جس کا خسارہ کم کرنے کیلئے حکومت ہاتھ پاؤں مار رہی ہے ، علاوہ ازیں جون سے ستمبر تک حکومت نے تقریباً 15 ارب مختلف قرضوں اور ان کی اقساط کی صورت میں ادا کرنے ہیں ، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے انعامی بانڈ متعارف کرا کر کالے دھن کو تحفظ اور خزانہ بھرنے جیسے دونوں کام بیک وقت کر لئے ہیں ۔=