لاہور( ٹیسکو نیوز) پاکستان سپر یگ کے سپاٹ فکسنگ سکینڈ ل میںملوث فاسٹ بائولر محمد عرفان کو معطل کردیا گیا ۔ شاہ زیب حسن نے پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو بیان ریکارڈ کر ا دیا ‘آج دوبارہ حاضر ہونگے ۔ ذوالفقار بابر اور عمرامین کے گرد بھی گھیر ا تنگ ہونے لگا ۔ محمد عرفان کے خلاف پی سی بی کے پاس شواہد بھی موجود ہیں۔ محمد عرفان بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔پی سی بی کا کہنا ہے کہ محمد عرفان نے انسداد کرپشن قوانین کے آرٹیکل 2.2 اور 2.4 کی خلاف ورزی کی ہے، انھوں نے چاہے کسی قسم کی کوئی فکسنگ کی ہو یا نہ کی ہو لیکن بکیز سے رابطہ ہونے کے بعد انھیں پی سی بی کو آگاہ کرنا چاہئے تھا۔مذکورہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر عرفان کو چارج شیٹ دے دی گئی اور انہیں 14 دن کے اندر جواب جمع کرانے کا کہا گیا۔ کوئی فیصلہ آنے تک محمد عرفان کسی قسم کی کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔سٹے بازوں نے پانچ مرتبہ محمد عرفان سے رابطہ کر کے انہیں آفرز دیں لیکن انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ حکام کو اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا۔بکی کا تعلق کراچی سے ہے۔ خالد لطیف اور شرجیل خان پہلے ہی معطل کیے جا چکے ہیں۔ شاہ زیب حسن بھی پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہوئے اور سوالات کے جوابات دیئے ‘تقریبا تین گھنٹے سے زائد ای سی یو نے نوجوان کھلاڑی سے سپاٹ فکسنگ کے حوالے سے باز پرس کی اور انہیں اس حوالے سے مزید سوچنے کا وقت دیتے ہوئے آج دوبارہ طلب کر لیا۔ذرائع کے مطابق شاہ زیب کو آج دوسرے روز کی سماعت کے بعد چارج شیٹ جاری کرکے چودہ روز میں جواب دینے کی ہدایت کی جائے گی ۔ذرائع کے مطابق سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں عمر امین اور ذوالفقار بابر کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع نے اور بھی بڑے بڑے پردہ نشینوں کے منظر پر آنے کا عندیہ دیا ہے