’فرقہ وارانہ جماعتوں کے سربراہان کیخلاف کس قانون کے تحت کارروائی کریں‘

اسلام آباد: (ٹیسکو نیوز) پیپلز پارٹی نے سینیٹ اجلاس میں وزیر داخلہ چودھری نثار کے بیان کیخلاف تحریک جمع کرا دی۔ یہ تحریک سینیٹر سحر کامران کی جانب سے ایوان میں جمع کرائی گئی۔ تحریک کے متن کے مطابق چودھری نثار نے اپنے بیان میں کالعدم تنظیموں اور مذہبی فرقہ واریت میں تفریق کی تھی۔
اس تحریک کا جواب دیتے ہوئے چودھری نثار کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی کالعدم تنظیموں کے ساتھ نرمی برتنے کی بات نہیں کی، تاہم اگر فرقہ وارانہ جماعتوں کے سربراہان کیخلاف مقدمات ہی نہیں تو کس قانون کے تحت کارروائی کریں؟ کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے، یہ قانون میں کمی ہے۔ چودھری نثار نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کی بات دونوں ایوانوں اور میڈیا میں بھی ہوتی ہے۔ میرا بیان آپ بھی دیکھیں اور ایوان میں بانٹیں۔ حقائق اور دلیل سے بات ہونی چاہیے، میں نے تجربہ کی بنیاد پر بات کی تھی۔ میں نے نرمی کی بات نہیں کی اور نہ ہی کہا کہ یہ کم تر دہشت گرد ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں کسی دہشتگرد تنظیم کا ہیڈ کوارٹرز نہیں اور نہ ہی کسی کالعدم تنظیم کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت ہے۔ اگر کوئی کالعدم تنظیموں کا نام بھی لے تو اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔ ہم نے کئی جماعتوں کے خلاف کارروائی کی اور ان کے رہنماؤں کو جیل بھیجا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ داخلی و خارجی سیکیورٹی اور ردالفساد کے فیصلے وفاقی حکومت نے کئے۔ سندھ سے خیبر پختونخوا تک انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن ہوئے۔ نیکٹا کو ہدایت کی ہے کہ فرقہ پرستوں اور دہشت گردوں پر زمین تنگ کرنے کیلئے نیا قانون لائیں