جعلی کرنسی پھیلانے والے بڑے نیٹ ورک کا سراغ مل گیا,بھارت اور افغانستان میں نوٹوں کی چھپائی کا انکشاف

کراچی (ٹیسکو نیوز) سرغنہ ودیگر ارکان کا کال ریکارڈ حاصل، لاہور کے گروپ نے پنجاب سمیت کراچی ، پشاور ،کوئٹہ و دیگر شہروں میں کروڑوں جعلی نوٹ پھیلا دیے ایف آئی اے نے جعلی کرنسی پھیلانے والے بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا ، ایک لاکھ کی جعلی کرنسی 30 ہزار میں فروخت کردی گئی ، بھارت اور افغانستان میں جعلی نوٹو ں کی چھپائی کا انکشاف ہوگیا، کراچی میں جعلی کرنسی سمیت ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دو ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ بین الصوبائی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ واضح رہے کہ یہ ملزمان جعلی کرنسی پھیلانے کی کئی کامیاب وارداتیں کر چکے ہیں ، تاہم ایک بینک افسر کے ساتھ وار دات ان کی گرفتاری کاباعث بن گئی۔ذرائع کے مطابق ملزمان نے جعلی نوٹ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ سے خریدے تھے جو کہ ایک لاکھ روپے کے نوٹ 30 ہزار روپے میں فروخت کرتا ہے ،اس گروپ کا ماسٹر مائنڈ کراچی آتا جاتا رہتا ہے۔یاد رہے کہ بینکوں کی مشینوں اور اے ٹی ایم سے بھی جعلی نوٹ کلیئر ہو کر شہریوں کے پاس پہنچنے کی کئی اطلاعات کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے حالیہ عرصے میں کئی اقدامات کئے گئے ، جن میں اصل نوٹوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھنے والی نئی مشینوں کی تنصیب کے علاوہ شہریوں کیلئے آگاہی مہم بھی چلائی جاتی رہی ہے ۔ گزشتہ ہفتے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کراچی کی ٹیم نے چھاپہ مار کر جعلی کرنسی کے ذریعے خریداری کرنے والے دو ملزمان وسیم اور ناصر کو گرفتار کیا ، ملزمان کے خلاف شہریار نامی شہری نے درخواست دی تھی۔ذرائع کے مطابق ملزمان جس گروپ سے جعلی نوٹ خریدتے رہے اس کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے ، لاہور میں موجود اس گروپ نے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں کے علاوہ پشاور ، کوئٹہ ،کراچی ،حیدر آباد اور دیگر علاقوں میں موجود ملزمان کو کروڑوں روپے کے جعلی نوٹ فروخت کئے اور تاحال یہ سلسلہ جا ری ہے، یہ کرنسی نوٹ اس قدر مہارت سے چھاپے گئے ہیں کہ انہیں عام شہری مشکل سے ہی پہچاننے میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ یہ کرنسی نوٹ پھیلانے والے ملزمان اکثر جعلی نوٹ دینے کیلئے رات کے وقت کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ شہریوں کو نوٹ پہچاننے میں مزید مشکل پیش آئے۔
ذرائع نے بتایا کہ مافیا ایک لاکھ کے جعلی نوٹ 30 ہزار روپے میں گروہ کو فروخت کرتی ہے جو یہ کرنسی ملک بھر میں پھیلا رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ بھارت اور افغانستان میں ملک دشمنوں کے ذریعے چھپنے والے ان نوٹوں کی بڑی تعداد میں پاکستان آمد ایک لمحہ فکریہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ جعلی کرنسی میں ملوث تمام گروپوں کے خلاف کارروائیوں کیلئے خصوصی تحقیقاتی اداروں کے علاوہ پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وفاقی حکومت کی جانب سے اختیارات تفویض کردیے گئے ہیں ، جبکہ وزارت خزانہ کے احکامات پر اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ دنوں جاری کردہ ایک لیٹر میں ایف آئی اے حکام سے خصوصی طور پر آپریشن کیلئے بھی رابطہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے گروپ کے سرغنہ اور دیگر ارکان کے حوالے سے گرفتار ملزمان سے جو فون نمبرز ملے ہیں ان کے ذریعے ان کا سی ڈی آر (کال ڈیٹا ریکارڈ) بھی حاصل کر لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ان کی پنجاب کے علاقوں میں نقل و حرکت کی رپورٹس اور لوکیشن تحقیقاتی اداروں کو موصول ہو رہی ہیں تاہم کوشش کی جا رہی ہے کہ ملزمان کو کراچی سے ہی گرفتار کیا جائے کیونکہ اس گروپ کے یہ کارندے اکثر و بیشتر کراچی آتے جاتے رہتے ہیں۔