خون فروخت کرنا نا قابل معافی جرم ہے : سپریم کورٹ

اسلام آباد ( ٹیسکو نیوز) ہسپتالوں کو نئے ایس او پیز پر عملدرآمد کا حکم، یہ انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے ، خلاف ورزی پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے :چیف جسٹس سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں ادویات اور خون چوری اور آکسیجن کی مہنگے داموں خریداری کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران پولی کلینک ہسپتال کوخون کی فروخت کے نئے ایس او پیز پر عملدر آمد کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ نئے ایس او پیز تمام سٹیک ہولڈرز کے لیے قابل قبول ہیں ، بلڈ فروخت کے ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جائے ، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ دوران سماعت چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثا قب نثار نے کہا کہ خون فروخت کرنا ناقابل معافی جرم ہے ، یہ انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے ، دوبارہ انکوائری کرانے میں منطقی انجام تک نہیں پہنچیں گے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، عدالت کو بتایا گیا کہ پولی کلینک میں اختیارات کا درست استعمال نہیں کیا گیا، 2016 سے قبل گریڈ نو سے چودہ کے ٹیکنیشن کو آفیسر کی منظوری کے بغیر خون جاری کرنے کا اختیار تھا۔ پھر نئی ایس او پی بنا کر اس اختیار کو واپس لیا گیا، خون چوری کے الزام کا سامنا کرنے والے ٹیکنیشن بعد میں اقبالی بیان سے منحرف ہو گئے ، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی