پاکستان میں چائلڈ لیبر کا ‘شیطانی چکر’

کراچی (سکائی نیوز) پاکستان میں بچوں کی محنت مشقت کے بارے میں 21 سال پرانے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 33 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کرتے تھے صبح چھ بجے کا وقت ہے مگر کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں واقع جیٹی پر مچھیروں کا ایک ہجوم موجود ہے اور کشتیوں میں بیٹھے سینکڑوں افراد سمندری مخلوقات کی صفائی اور چھانٹی میں مشغول ہیں۔
11 سالہ عبدالمالک سے میری ملاقات اسی جیٹی پر ہوئی۔ وہ کیکڑے صاف کر کے ایک ٹوکرے میں ڈالتے جا رہے تھے اور اس کام کے انھیں روزانہ دو سے تین سو روپے ملتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ والد بیمار ہیں اور بڑے بھائی معذور اورگھر چلانے کی ذمہ داری اُن پر ہے۔ ‘گھر میں پیسہ دینا پڑتاہے، گھر چلانا پڑتا ہے، گھر میں چھوٹا بھائی ہے، سب کو کھلانا پڑتا ہے، مجبوری میں آنا پڑتا ہے۔ کیکڑے کو چھڑانا پڑتا ہے جالی سے ۔۔۔ کرتے کرتے ابھی عادت ہوگئی ہے۔ خطرناک اتنا نہیں لگتا۔ تیرنا آتا ہے۔ بس دریا پہ ٹھنڈ لگتی ہے تو زکام ہوتا ہے اس لیے کبھی کبھی بیمار ہوجاتا ہوں۔’ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مزدور (آئی ایل او) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کی محنت مشقت کے بارے میں 21 سال پرانے اعدادوشمار دستیاب ہیں جن کے مطابق ملک میں 33 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کرتے تھے اور ان اعدادوشمار میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں سمیت ‘بدترین’ اقسام کی چائلڈ لیبر شامل نہیں۔ 14 سال سے کمر عمر بچے سے مزدوری کرانا بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں سمندری ماہی گیری کو دنیا بھر میں خطرناک پیشوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے لیکن آج بھی پاکستان میں بچوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کی خاطر سمندر کا رُخ کرتی ہے۔ ابراہیم حیدری کے واحد سرکاری ہسپتال سندھ گورنمنٹ کے مطابق علاقے میں ہر ماہ دو سے تین بچوں کے ڈوبنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ جیٹی پر صرف ایک عبدالمالک ہی نہیں بلکہ کئی اور بچے اپنے رشتہ داروں اور دیگر کشتی مالکان کے ساتھ کام میں مصروف تھے۔ یہ بچے کشتی مالکان کے ساتھ سمندری مخلوقات جیسے مچھلی، جھینگے، کیکڑے وغیرہ پکڑنے کے لیے علی الصبح سمندر میں جاتے ہیں اور روشنی نکلنے سے پہلے واپس جیٹی پہنچتے ہیں۔ ان تمام ماہی گیروں کی کوشش ہوتی ہے ان کا مال دس سے 12 بجے کےدرمیان صاف ہوجائے تاکہ وہ اسے پیش کرکے بیوپاریوں سے بھاؤ طے کر سکیں۔ اس کام میں بغیر کسی سخت محنت کے اگر کسی کو منافع پہنچتا ہے تو وہ بیوپاری ہیں جو یہ مال منڈی میں فروخت کرتے ہیں۔ بچوں کو کیکڑے صاف کرنے کے لیے کم قیمتیں ادا کرنی پڑتی ہیں اس سوال پر کہ بچوں کو اس محنت طلب اور خطرناک کام میں کیوں استعمال کیا جاتا ہے، ناصر نامی ایک بیوپاری کا کہنا تھا کہ ‘بچہ ہوگا تو سمجھ لو اسے تین سے چار سو روپے دے کر ہم جان چھڑا لیتے ہیں۔ اگر 20/25 سال کی عمر کا ایک لڑکا بیٹھا ہے تو اُس کو 1000 روپے دینا پڑے گا۔ ایک ہزار روپے میں تین بچے کیکڑے چھڑا سکتے ہیں۔ ہماری بھی بچت ہے، مالک کی بھی بچت ہے اور بچہ بھی خوش ہوگیا۔’ اس ‘سی فوڈ’ کی پروسیسنگ اور پیکنگ کا عمل علاقے میں قائم کارخانوں میں کیا جاتا ہے اور پھر اسے بیرونِ ملک برآمد کر دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان سے برآمد کیے جانے والے سی فوڈ سے ملکی خزانے کو گذشتہ برس 324 ملین ڈالرز کی آمدنی ہوئی لیکن اس کا اثر ماہی گیروں اور ان کے بچوں کی زندگی پر نظر نہیں آتا۔ ملکی قوانین کے مطابق سکول کے اوقات میں کارخانوں میں بچوں سے محنت مشقت لینے پر پابندی کے باوجود اطلاعات ہیں کہ گھروں اور کارخانوں میں چھپ کر بچوں سے یہ کام کروایا جاتا ہے اور پابندیوں کے خوف کی وجہ سے فیکٹریوں میں میڈیا کے داخلے کی ممانعت ہے۔ تاہم محکمہ لیبر سندھ کا اصرار ہے کہ وہ فیکٹریوں میں بچوں کے حقوق سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرواتا ہے۔ مبصروں کا کہنا ہے کہ تمام تر منافع کشتی کے مالکوں اور کاروباریوں کو چلے جاتے ہیں فشریز میں کام کرنے والے بچوں سے متعلق کوئی سرکاری اعدادوشمار موجود نہیں لیکن غیر سرکاری تنظیموں کا اندازہ ہے کہ سندھ میں پانچ لاکھ بچے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ ماہی گیروں کی ایک بڑی تعداد بنگالی اور برمی تارکینِ وطن کے بچوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے اکثر کے پاس کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں لیکن صوبہ سندھ کے وزیر برائے فشریز اینڈ لائیو سٹاک محمد علی ملکانی کہتے ہیں کہ شناختی دستاویز کے بغیر کسی شخص کو ماہی گیری کی اجازت نہیں۔ ‘اگر کوئی شخص غیر قانونی کام کر رہا ہے تو بالکل کر رہا ہوگا لیکن ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی نظر میں، لیبر ڈیپارٹمنٹ کی نظر میں یا ہماری جو باقی (متعلقہ) ایجنسیز کی نظر میں آئے گا تو جو آدمی اس کام کو کراتے ہیں ان کے خلاف ضرور ایکشن لیا جائے گا۔ ہم صرف انھیں اجازت دے رہے ہیں جن کا شناختی کارڈ بنا ہوا ہے تو اب یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ آدمی جا سکے۔’ ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ بچے اس کاروبار میں شامل ہیں مچھلی پکڑنے کی غرض سےگہرے پانیوں میں بچوں کو بھیجنے کے سوال پر ان کا دعویٰ تھا کہ ‘اب یہ ممکن نہیں ہے کہ کشتیوں پر بچے سمندر میں جا سکیں۔’ ماہرین کہتے ہیں کہ بچوں سے لی جانے والی سستی محنت کا فائدہ، کشتی کے مالک اور بیوپاری سے لے کر اُن سب کو پہنچتا ہے جو سی فوڈ برآمد کرتے ہیں اور بچوں سے محنت و مشقت لینے کے شیطانی چکر کو ختم کرنے کے لیے معاشی غربت کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے