اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بننے کی راہ پر گامزن

دنیائے مغرب میں امریکا یا کسی یورپی ملک میں کوئی بم دھماکا یا خود کش حملہ ہو تو فوراً یہی خیال آتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی مسلمان تنظیم کا ہاتھ ہو گا۔ واقعہ نائن الیون کے بعد خصوصاً مغربی میڈیا نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس تواتر سے پروپیگنڈا کیا کہ غیر مسلموں کو چھوڑیئے،بعض مسلمانوں کے اذہان میں بھی ہمارا دین اور دہشت گردی لازم وملزوم جیسی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ کہ زبردست مخالفانہ پروپیگنڈے کے باوجود اسلام دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے وسعت پاتے مذہب ہونے کا اعزاز حاصل کر چکا۔یہ ہمارا نہیں پیو ریسرچ سینٹر کا دعوی ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر(Pew Research Center) امریکا کا مشہور تحقیقی ادارہ ہے۔مختلف معاشرتی، سیاسی، مذہبی اور معاشی موضوعات پر دنیا بھر میں سروے کراتا ہے۔ اس کی تحقیقی رپورٹیں غیر جانب داری اور درستی کے باعث قابل اعتماد سمجھی جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پیوریسرچ سینٹر کی ایک تحقیقی رپورٹ منظر عام پر آئی جس نے پچھلے چند برسوں کے دوران عالم اسلام کے بارے میں ہونے والے کئی انکشاف ایک جگہ جمع کر دئیے۔اسی منفرد رپورٹ کے اہم مندرجات کا خلاصہ قارئین ایکسپریس کی نذر ہے۔ یہ عیاں کرتی ہے کہ 2010ء میں دنیا کی آبادی 6 ارب 90 کروڑ تھی۔ اس میں سے 2 ارب 20 کروڑ عیسائی تھے۔ گویا اس وقت عیسائیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب تھا۔ کرہ ارض پر 1ارب 60 کروڑ مسلمان آباد تھے۔ یوں اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب قرار پایا۔ ہندومت تیسرا بڑا مذہب تھا جسے ایک ارب لوگ مانتے ہیں۔ (سات سال بعد اب دنیا میں7 ارب 40 کروڑ انسان آباد ہیں۔ اسی لحاظ سے ہر مذہب ،خاص طور پہ اسلام کے پیروکاروں کی تعداد بھی بڑھ چکی) لیکن 2010ء سے 2050ء کے چالیس سالہ عرصے میں دنیا میں مسلمانوں کی آبادی میں ’’73 فیصد‘‘ اضافہ ہوگا جبکہ عیسائیت اور ہندو مت کے ماننے والوں کی آبادی بالترتیب ’’35 فیصد‘‘ اور ’’34 فیصد‘‘ بڑھے گی۔ چوتھے نمبر پر یہودیت (16 فیصد) کا نمبر ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد یونہی بڑھتی رہی، تو 2099ء تک اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق 62 فیصد مسلمان ایشیا اور بحرالکاہل میں آباد ہیں۔ 20 فیصد افریقہ اور بقیہ یورپ میں بستے ہیں۔ فی الوقت انڈونیشیا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ جہاں تقریباً 21 کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ مگر 2050ء تک یہ اعزاز غیر اسلامی ملک بھارت کو مل جائے گا۔ تب وہاں 31 کروڑ مسلمان آباد ہوں گے۔
پیو تحقیقی رپورٹ کی رو سے 2010ء میں یورپ میں 4 کروڑ 40 لاکھ مسلمان آباد تھے۔ یہ یورپ کی کل آبادی کا 6 فیصدتھے۔ مگر 2050ء تک وہ یورپی آبادی کا 10 فیصد حصہ بن جائیں گے۔ فی الوقت روس (1 کروڑ 40 لاکھ)، جرمنی (48 لاکھ)، فرانس (47 لاکھ)، برطانیہ (30 لاکھ) اور اٹلی (22 لاکھ 30 ہزار) وہ یورپی ممالک ہیں جہاں مسلمان بڑی تعداد میں بستے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق 2015ء میں امریکا میں 3 کروڑ 30 لاکھ مسلمان آباد تھے۔ یہ کل آبادی کا تقریباً ایک فیصد حصہ ہے۔ ان میں 63 فیصد مہاجر مسلم ہیں۔ تاہم 2050ء تک امریکا کی کل آبادی میں 2.1 فیصد مسلمان ہوں گے۔ گویا تب ان کی تعداد یہودیوں سے بڑھ جائے گی اور اسلام امریکا کا دوسرا بڑا مذہب کہلائے گا۔
ماہرین کی رو سے دو بنیادی وجوہ کے باعث مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اول عالم اسلام میں شرح پیدائش زیادہ ہے۔ ایک مسلم ماں اوسطاً تین جبکہ غیر مسلم ماں دو بچے پیدا کرتی ہے۔ دوم عالم اسلام میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ چناں چہ وہ شادی کی عمر کو پہنچ کر زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں۔
حال ہی میں پیو ریسرچ سینٹر کے ماہرین نے امریکا بھر میں یہ سروے کیا تھا کہ غیر مسلم امریکی اسلام اور مسلمانوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس سروے نے انکشاف کیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ امریکی ریپبلکن پارٹی کے امریکیوں سے زیادہ مسلمان دوست ہیں۔ سروے کا پیمانہ 0 تا 100 تھا۔ 0 منفی ترین اور 100 مثبت ترین کی نشاندہی کرتا ہے۔تازہ سروے میں ہزارہا غیرمسلم امریکیوں سے رابطہ کیا گیا۔ سروے کے نتائج یہ رہے:
یہودی (67)، رومن کیتھولک (66)، پروٹسٹنٹ (65)، اناجیلی عیسائی (61)، بدھ مت کے پیروکار (60)، ہندو (58)، مورمن (54)، دہریے (50) اور مسلمان (48)۔ گویا عام امریکی تمام مذہبی افراد میں مسلمانوں کو زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔ امریکا اور عالم اسلام کے سیاسی و تہذیبی ٹکراؤ کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ کوئی غیر معمولی بھی نہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ 2014ء کے سروے میں مسلمانوں کو 40 کا عدد ملا تھا۔ گویا پچھلے تین سال میں بہتری آئی ہے۔
تازہ سروے میں ڈیموکریٹک امریکیوں نے مسلمانوں کو 56 جبکہ ریپبلکن امریکیوں نے 39 نمبر دیئے۔ یہ رجحان سروے کے ہر سوال میں برقرار رہا۔ مثلاً 54 فیصد ڈیموکریٹک سمجھتے ہیں کہ امریکی مسلمان امریکا کے خلاف کام نہیں کرتے۔ ریپبلکن امریکیوں میں یہ عدد 39 فیصد رہا۔ 69 فیصد ڈیموکریٹک کا خیال ہے کہ امریکا میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب برتا جاتا ہے۔ ریپبلکن امریکیوں میں یہ 40 فیصد کی رائے ہے۔
کچھ عرصہ قبل پیو سینٹر کے ماہرین نے یورپ بھر میں یہ سروے کرتے ہوئے ہزارہا غیر مسلم یورپیوں سے یہ سوال پوچھا تھا ’’آپ کے خیال میں کتنے فیصدی مسلمان شدت پسند اسلامی گروہوں مثلاً داعش کی حمایت کرتے ہیں؟‘‘بیشتر یورپی ممالک کے شہریوں نے جواب دیا کہ مسلمانوں کی کم تعداد شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرتی ہے۔ تاہم اسی سروے نے افشا کیا کہ خصوصاً قدامت پسند غیرمسلم مسلمانوں کو پسند نہیںکرتے۔ ان کی تمنا ہے کہ مسلمان اپنے اپنے دیس واپس چلے جائیں۔ ہنگری میں ایسے لوگوں کی تعداد (72فیصد) سب سے زیادہ ہے۔اہم یورپی ممالک میں تعداد یہ رہی:اٹلی (29 فیصد)، جرمنی (29فیصد) اور برطانیہ (28 فیصد)۔
چند سال قبل پیو ریسرچ سینٹر نے عالم اسلام اور دنیائے مغرب میں ایک انوکھا سروے کیا ۔ موضوع یہ تھا کہ مسلمان اور مغربی باشندے ایک دوسرے کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔ سروے سے معلوم ہوا کہ عالم اسلام میں 68 فیصد مسلمانوں نے مغربیوں کو خود غرض، 66 فیصد نے متشدد، 64 فیصد نے ہوس پرست، 61 فیصد نے غیر اخلاقی، 57 فیصد نے مغرور، 53 فیصد نے انتہا پسند، 44 فیصد نے خواتین کا احترام کرنے والے، 33 فیصد نے دیانتدار، 31 فیصد نے روادار اور 29 فیصد نے سخی قرار دیا۔
دنیائے مغرب میں 58 فیصد مغربی باشندوں نے مسلمانوں کو انتہا پسند، 51 فیصد نے دیانتدار، 50 فیصد نے متشدد، 41 فیصد نے سخی، 39 فیصد نے مغرور، 35 فیصد نے خود غرض، 30 فیصد نے روادار، 23 فیصد نے غیر اخلاقی، 22 فیصد نے خواتین کا احترام کرنے والے اور 20 فیصد نے لالچی قرار دیا۔یہ سروے افشا کرتا ہے کہ دنیائے مغرب میں مسلمانوں کو انتہا پسند سمجھنے کا تصّورعام ہے۔ تاہم مغربی باشندے مسلمانوں کی دیانتداری اور سخی پن کے معترف ہیں۔ جبکہ عالم اسلام میں مسلمان مغربی باشندوں کی خودغرضانہ طبیعت کو سب سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔
پیو ریسرچ سینٹر کی یہ تحقیق اپنی جگہ کہ اکیسویں صدی کے آخر تک اسلام کرہ ارض کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا، تاہم دنیائے مغرب میں قوم پرستی ازسرنو جنم لینے سے دونوں بڑے مذاہب کے مابین ٹکراؤ بڑھ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر قوم پرست امریکی ہی ڈونالڈ ٹرمپ کو اقتدار میں لائے۔ برطانیہ میں قوم پرستوں ہی نے یورپی یونین کو ٹھینگا دکھا دیا۔ جبکہ جرمنی، فرانس، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک میں بھی قوم پرستوں کی پتنگ چڑھ رہی ہے۔مغربی قوم پرستی کے نئے جنم ہی نے شاید ترک وزیراعظم کو یہ کہنے پر اُکسا دیا کہ مغرب مسلمانوں کے خلاف نئی صلیبی جنگ کا آغاز کرچکا۔ خدانخواستہ مذاہب اور تہذیبوں کی جنگ میں شدت آئی، تو مغرب میں قیام پذیر کروڑوں مسلمان شاید سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
بھارت…سب سے بڑا اسلامی ملک؟
پیو ریسرچ سینٹرکی تازہ رپورٹ نے افشا کیا کہ 2050ء تک بھارت میں سب سے زیادہ مسلمان آباد ہوں گے۔تب ان کی تعداد تیس کروڑ سے بڑھ جائے گی۔یہ ایک ڈرامائی انکشاف ہے کیونکہ ہندوئوں کی اکثریت کے باعث تکنیکی طور پر شاید بھارت سب سے بڑا اسلامی ملک نہیں کہلا سکے۔مذید براں اہم سوال یہ ہے کہ نریندر مودی جیسے قوم پرست بلکہ انتہا پسند ہندو لیڈروں کے ہوتے ہوئے مستقبل میں کیا بھارت میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ پائے گی؟ درست کہ بھارتی مسلمانوں میں شرح پیدائش ہندئوں سے زیادہ ہے، مگر مودی حکومت مختلف معاندانہ اقدامات کے ذریعے بھر پور کوشش کررہی ہے کہ مسلمان اپنی مذہبی روایات و اقدار سے کٹ جائیں… وہ بھارتی معاشرے میں رہنے کی خاطر ہندوانہ طور طریقے اپنالیں تاکہ اپنی بقا کو یقینی بناسکیں۔
مودی حکومت کے قوم پرست ہندو لیڈر ہر جگہ اپنے مذہب کی چھاپ چاہتے ہیں۔ مثلاً ریاست اترپردیش میں حالیہ الیکشن کے بعد یہ مطالبہ سامنے آ چکا کہ مدرسہ دیوبند کی وجہ سے عالمی شہرت رکھنے والے شہر،دیوبند کا نیا نام ’’دیوورند‘‘ رکھا جائے کیونکہ زمانہ قدیم میں اس کا یہی نام تھا۔ اور یہ کہ اس شہر میں مہا بھارت کے ہیرو، پانڈوئوں نے قیام کیا تھا۔یہی نہیں، وزیراعظم مودی نے ایک انتہا پسند لیڈر، یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیراعلیٰ اترپردیش مقرر کردیا۔ اس طرح بی جے پی نے ریاست میں آباد چار کروڑ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے کہ اس نے الیکشن میں ایک بھی مسلم امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔ یہ یوگی آدتیہ ناتھ مسلمانوں کا کھلا دشمن ہے۔

44 سالہ آدتیہ ناتھ یوگیوں کے ایک فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس فرقے کی بنیاد یوگیوں کے مشہور گرو، گورکھ ناتھ نے گیارہویں صدی میں رکھی تھی۔فرقے کا مرکز گورکھ پور شہر میں واقع ایک مندر ہے جو ’’گورکھ ناتھ متھ‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ ایک قدیم مندر ہے۔یوگی آدتیہ نے مسلم دشمنی کے سہارے اپنا سیاسی کیریئر عروج پر پہنچایا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کرتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی مشینری سنبھال کر وہ اترپردیش کے چار کروڑ مسلمانوں کے ساتھ کس قسم کا سلوک کرے گا۔نریندر مودی نے یوگی ادیتیہ کو وزیراعلیٰ بنا کر اسے یہ ٹاسک بھی سونپا ہے کہ وہ ریاست کے تمام ہندوئوں کو بی جے پی کے پلیٹ فارم پہ جمع کر دے۔مقصد یہ کہ 2019ء کے پارلیمانی الیکشن میں سب سے بڑی بھارتی ریاست کے تمام ہندو ووٹ بی جے پی کو مل سکیں۔
یہ اظہر من الشمس ہے کہ قوم پرست اور انتہا پسند ہندو مسلمانانِ بھارت کے ساتھ ناروا سلوک کرتے رہے، تو جلد یا بدیر بھارتی مسلمان علیحدہ وطن کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے بزرگوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے ہندو اکثریت کی غنڈہ گردی کا پہلے ہی ادراک کرلیا اور پاکستان بنا ڈالا۔یہ وطن نہ بنتا، تو بعید نہیں کہ 1947ء سے پہلے کی طرح یہاں بھی صنعت و تجارت و معیشت پر ہندو بیوپاری اور بنیے چھائے ہوتے

اپنا تبصرہ بھیجیں