خانانی کالیا کیس کی دوبارہ انکوائری، منی لانڈرنگ میں نجی بینک بھی ملوث ہے: وزیر داخلہ

اسلام آباد (ٹیسکو نیوز) خانانی اینڈ کالیا کیس کی نئے سرے سے انکوائری کا آغاز، منی لانڈرنگ میں نجی بینک بھی ملوث، وزیر داخلہ کہتے ہیں معاملے میں بیوروکریٹ، بزنس مین اور سیاستدان بھی شامل ہیں، باسٹھ این جی اوز کو قانون کے تحت کام کی اجازت۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے شہر اقتدار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ کے غلط استعمال کی شکایتیں آئی ہیں، غیرملکی خاتون کو پاکستان میں شادی پر پہلے مرحلے میں ایک سال کا ویزہ ملے گا۔ وزیرداخلہ نے اعلان کیا کہ پاکستانی اوریجن کارڈ کے اجراء کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، اوریجن کارڈ کا نام بھی اب عارضی رہائشی کارڈ رکھا گیا ہے۔ وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سال سے این جی اوز بغیر رجسٹریشن کے کام کر رہی تھیں، اب انٹرنیشنل این جی اوز کو ایک ضابطہ کار کے اندر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ویزے ریوڑیوں کی طرح بانٹے گئے تھے، سکیورٹی کلیئرنس کے بغیر ویزے جاری کئے جاتے تھے، 3 سال میں ویزوں کے حوالے سے بہت سے اقدامات کئے ہیں، اب کوئی بغیر دستاویزات کے پاکستان میں داخل نہیں ہو سکتا۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ 62 این جی اوز کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور پاکستان میں بغیر دستاویزات آنے والوں کو اب واپس بھجوایا جاتا ہے، اب کوئی بھی منہ اٹھا کر پاکستان نہیں آتا، آئندہ کسی کو لینڈنگ کارڈ کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ آن لائن ویزہ سسٹم پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خانانی اینڈ کالیا کیس 2008ء کا کیس ہے، اس کیس پر کچھ اور نہ کہلوائیں، توہین عدالت نہ لگ جائے، خانانی اینڈ کالیا کیس کی نئی انکوائری شروع کی گئی، اس کیس میں ریکارڈ نظرانداز کیا گیا یا تباہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خانانی اینڈ کالیا کیس میں بیوروکریٹ، بزنس مین اور سیاست دان شامل ہیں، منی لانڈرنگ میں لوکل بینک بھی ملوث ہے، خانانی اینڈ کالیا کیس میں جو ریکارڈ نکالا گیا اسے ڈاکیومنٹ نہیں کیا گیا،اب اس کیس کی نئے سرے سے انکوائری کر رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ خانانی اینڈ کالیا کیس کی انویسٹی گیشن کرنے والے آفیسر سے بھی تحقیقات ہوں گی، یو اے ای، امریکہ اور برطانیہ کو بھی خط لکھ دیئے ہیں، جو بھی مواد ہے اسے ایکٹیویٹ کریں گے۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ شناختی کارڈوں کے مسئلے کو سیاسی بنا دیا گیا ہے، شناختی کارڈز کا مسئلہ پنجابی یا پختون کا نہیں، پاکستان کا مسئلہ ہے، پاکستان میں بارہ سے چودہ سالوں میں نیشنیلٹی کو ریوڑیوں کے حساب سے بیچا گیا، چند ہزار کے تحت نیشنیلٹی بیچی گئی۔ چودھری نثار کا مزید کہنا تھا کہ حساس مسائل پر سیاست نہ کی جائے، جو لوگ اسے سیاسی اور اینٹی پشتون بنا رہے ہیں ان پر افسوس ہے، کیا آپ نے قومی ایشوز پر قوم کو تفریق کرنا ہے یا جوڑنا ہے؟ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پشتون پاکستان کا ایک ستون ہیں، انہیں ہر جگہ خوش آمدید کہتے ہیں۔ چودھری نثار نے مزید کہا کہ ایک لاکھ 25 ہزار نان پشتونوں کے کارڈز بھی بلاک کئے گئے ہیں، 25 ہزار پاسپورٹس کینسل کئے، 32 ہزار 440 افغانوں کے کارڈز تھے، پریشر ڈالنے پر لوگوں نے 3 ہزار 640 شناختی کارڈ ازخود واپس کئے۔ وزیر داخلہ نے استفسار کیا کہ سیاست کی خاطر کیوں نفرت پھیلاتے ہیں؟ انہوں نے اپیل کی کہ سیاسی مقاصد کی خاطر نفرتیں نہ پھیلائی جائیں۔ وزیر داخلہ نے نام لئے بغیر پرویز خٹک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک وزیر اعلیٰ لاک ڈاؤن کرنے آئے تھے، پولیس نے ہاتھ نہیں لگایا پھر بھی کہا گیا کہ پشتونوں کو روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکیوں کو شناختی کارڈز کا اجراء جرم ہے، جعلی شناختی کارڈ پر کوئی سپیس نہیں دوں گا۔ وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کئی سینئر رہنماء آ کر ملے ان کی بات سنی، جعلی شناختی کارڈز پر پارلیمانی کمیٹی بنا دی ہے مگر پھر بھی بلاجواز پروپیگنڈے سے صوبوں میں نفرت پھیلانے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ چودھری نثار نے واضح کیا کہ جعلی شناختی کارڈ کو روکنا قومی ذمہ داری ہے، 1978ء سے پہلے کا قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ تسلیم کر لیں گے۔