سوئس حکومت سے معاہدہ ، معلومات 2019 سے ملنا شروع ہوں گی

اسلام آباد ( جیوعوام) معاہدے کے تحت پاکستانی باشندوں کے بینک کھاتوں کی معلومات کی فراہمی کی ابتدا جنوری2019 سے ممکن ہو سکے گی سوئس حکومت کیساتھ پاکستان سمیت جن بائیس ممالک نے معلومات کے تبادلے کے معاہدے پر 2018 سے قبل دستخط کئے ہیں انہیں 2019 میں معلومات فراہم کرنا شروع کردی جائیں گی، بعض ممالک نے پہلے ہی سوئس حکومت کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے معاہدے کر رکھے ہیں ان کو سال 2018میں پہلے مرحلے میں معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا جن22 ممالک کے ساتھ سوئٹزر لینڈ کی حکومت نے 2018سے قبل دستخط کر دئیے ہیں ان میں آندورہ، ارجنٹائن، بارباڈوس، بورانڈی، برازیل، برٹش ورجن آئی لینڈ، سیمن آئی لینڈ، چلی، فروئے آئی لینڈ، گرین لینڈ، بھارت، اسرائیل، موریشس، میکسیکو، موناکو، نیوزی لینڈ، سان مرینو، سیشلیس ری پبلک، جنوبی افریقہ، ٹرکس، کیکوس آئی لینڈ ،یورا گوئے اور پاکستان شامل ہیں ۔ معاہدے کے تحت پاکستانی باشندوں کے بینک کھاتوں کی معلومات کی فراہمی کی ابتدا جنوری2019 سے ممکن ہو سکے گی پاکستان کو جو معلومات سوئس حکومت سے حاصل ہو سکیں گی ان میں پاکستانی باشندے کا نام، پتہ، تاریخ پیدائش اور سوئٹزر لینڈ کے بینک میں موجود اکائونٹ نمبر، اس کا سوئٹزر لینڈ میں ٹیکس کی شناخت کا نمبر، اس کی جانب سے اب تک کمائے گئے انسٹرسٹ اور کی گئی سرمایہ کاری پر حاصل کردہ ڈیویڈنڈ، مختلف انشورنس پالیسیوں سے حاصل ہونے والے پریمیم، ان کے اکائونٹ میں اب موجود رقم، ان کی جانب سے اثاثے ظاہر کرنے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں جمع کروائی گئی رقم کی معلومات دستیاب ہوسکیں گی