مشال پر گستاخی کا الزام لگانے کیلئے دبائو ڈالا گیا:عبداللہ

مردان (ٹیسکو نیوز ) مشتعل ہجوم سے بچنے کیلئے ہمیں واش روم میں چھپا دیا گیا مگر ہم ان کے غصے سے نہ بچ سکے ، مشال کی موت کی اطلاع ہسپتال میں ملی :دوست کا بیان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں تشدد سے ہلاک ہونے والے طالبعلم مشال خان کے ساتھی عبداللہ نے خود پر اور ساتھیوں پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ، عدالتی بیان میں تمام ملبہ یونیورسٹی انتظامیہ پر ڈال دیا ۔ عبدالولی خان یونیورسٹی واقعے کے مرکزی کردار مشال خان کے ساتھی عبداللہ نے مردان کی عدالت میں اپنا تحریری بیان ریکارڈ کرایا ۔ دنیا نیوز کو بیان کی ملنے والی کاپی کے مطابق عبداللہ نے اپنے اور مشال خان پر لگنے والے تمام الزمات کو مسترد کر دیا ۔ عبداللہ کے بیان کے مطابق اسے ایک ساتھی علم نے فون کرکے یونیورسٹی بلوایا جہاں پر موجود طلباء نے مجھ پر اور مشال خان پر گستاخی کے الزامات عائد کئے جس پر میں نے کلمہ پڑھا اور اس کا اردو اور پشتو میں ترجمہ کیا ۔ مجھے چند ٹیچرز نے واش روم میں چھا دیا تاہم مشتعل ہجوم دروازہ اور کھڑکیاں توڑ کر اندر داخل ہوگیا ۔ مجھے مشال خان پر گستاخانہ الفاظ کے استعمال کا الزام عائد کرنے کا کہا گیا جس پر میں نے انکار کر دیا ۔ عبداللہ کے بیان کے مطابق مشتعل افراد نے اسے مارنا شروع کر دیا اور اس کے بعض ساتھیوں نے اسے بچایا ۔ عبداللہ کے مطابق اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے مشال خان کی ہلاکت کی اطلاع ملی ۔ عبداللہ کے مطابق مشال خان پر تشدد کرنے والوں میں طلباء اور یونیورسٹی انتظامیہ کے افراد بھی شامل ہیں جنہیں وہ شناخت کرسکتے ہیں