مقتول مشال خان پر عائد الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ملا: آئی جی خیبر پختونخوا

پشاور(ٹیسکو نیوز) آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ مقتول مشال خان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ 6 یونیورسٹی ملازمین سمیت 16 نامزد ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے حقائق جاننے کیلئے ایف آئی اے سے مدد مانگ لی ہے۔ مشال خان قتل کیس کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود کا کہنا ہے کہ مشال خان، عبداللہ اور زبیر پر جو الزامات تھے، اس حوالے سے کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔ انکوائری کرنا فیکلٹی کا کام نہیں تھا۔ اس بارے میں پولیس کو اطلاع کی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہماری تفتیش کی سمت درست ہے۔ مردان پولیس اچھے نتائج دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے حقائق جاننے کے لیے ایف آئی اے سے مدد مانگ لی ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر بعض اوقات جعلی چیزیں ہوتی ہی۔ آئی جی صلاح الدین محسود کا پشاور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پولیس جب مردان یونیورسٹی پہنچی تو ہنگامہ شروع تھا۔ ڈی ایس پی جب پہنچے تو عبداللہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اس موقع پر پولیس افسر نے عبداللہ کو گاڑی میں بٹھایا اور اسے نکال کر یونیورسٹی سے باہر لے گئے۔ انہوں نے عبداللہ کو ہسپتال پہنچایا اور مزید نفری طلب کی۔ آئی جی خیبر پختونخوا نے کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں 20 ملزموں کو نامزد کیا گیا تھا۔ تفتیش کے بعد 11 ملزموں کو مزید شامل کیا گیا۔ واقعے کی تمام تفصیلات کل سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں گے۔