نیویارک: اخوت کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب کے اعزاز پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے تقریب

نیویارک: (جیوعوام) معروف کاروباری شخصیات میاں مشتاق اور سعید حسن کی جانب سے اہتمام کی گئی اس تقریب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے خصوسی شرکت کی۔
پاکستان میں بلا سودی قرضے فراہم کرنے والی سب سے بڑی تنظیم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں مثال بن چکی ہے۔ معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر امجد ثاقب کی قیادت میں دس سال قبل صرف 10 ہزار روپے سے شروع ہونے والا یہ ادارہ اب تک 37 ارب روپے کے قرضے فراہم کر چکا ہے۔ گزشتہ دنوں اخوت کے روح رواں ڈاکٹر امجد ثاقب کی آمد پر نیویارک کی معروف کاروباری شخصیات میاں مشتاق اور سعید حسن نے ان کے اعزاز میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے استقبالیہ کا اہتمام کیا جس میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے خصوسی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اخوت گروپ کی کارکردگی وک سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مختلف این جی اوز نے پاکستان کی ترقی اور اسے آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوت ایک بہت بڑی مثال ہے جس کو پوری دنیا میں سراہا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تعریف کی کہ اخوت تعلیم کے شعبے میں بھی آگے آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے ذریعے نہ صرف جہالت کے اندھیرے دور کیے جا سکتے ہیں بلکہ وہیں دہشتگردی سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اخوت نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں بہت اچھا کام کیا ہے لیکن اب یہی ادارہ تعلیم کے شعبے میں آگے بڑھ رہا ہے جو کہ بہت اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تعلیمی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔ اس وقت وہ لوگ جو پاکستان میں اندھیرا پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کو ختم کرنے کیلئے جس روشنی کی ضرورت ہے وہ صرف تعلیم سے ہی آ سکتی ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ نے کہا کہ میرے نزدیک تعلیم کے شعبے میں ادارہ اخوت کی خدمات سب سے اہم ہیں کیونکہ صرف تعلیم کے ذریعے ہی ہم پاکستان میں ترقی دیکھ سکتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ بغیر تعلیم کے ہم بانی پاکستان محمد علی جناح کے خواب کو بھی پورا نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ادارہ اخوت کے سفر کی جذباتی داستان سناتے ہوئے کہا کہ 10 ہزار روپے سے شروع ہونے والا یہ ادارہ اب 37 ارب روپے کے قرضے فراہم کر رہا ہے اور ایک کامیاب رول ماڈل بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے قرضوں کی واپسی کا تناسب 99.99 فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ڈونرز کا ایک بہت بڑا حصہ ان لوگوں سے آتا ہے جن کو ہم نے کبھی قرض دیا تھا۔ ڈاکٹر ثاقب کا کہنا تھا کہ اخوت کا سارا آئیڈیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کردار کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ دنیا نیوز سے گفتگو میں ڈاکٹر امجد ثاقب نے بتایا کہ اخوت دنیا بھر میں قرض حسنہ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ اس کیلئے امداد عام شخص بھی دیتا ہے، مخیر حضرات بھی دیتے ہیں جبکہ حکومت کے ساتھ مل کر بھی ہم قرض حسنہ کا یہ پروگرام چلا رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اخوت پاکستان کی سب سے پہلی فیس فری یونیورسٹی بھی قائم کر رہا ہے جس میں پاکستان کے ہر حصے سے طالبعلم لیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اخوت گروپ نے دنیا گروپ کے ساتھ مل کر ایک پوری یونین کونسل ایڈاپٹ کی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی کتاب اخوت کا سفر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو پیش کی