مستونگ :عبدالغفور حیدری کے قافلے میں دھماکہ ، 25 افراد جاں بحق

مستونگ (جیوعوام) عبدالغفور حیدری مدرسے کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے کہ دھماکہ ہوگیا ، سکیورٹی حکام نے جائے حادثہ کو گھیرے میں لے لیا مستونگ میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے کے قریب ہونے والے دھماکے میں ڈائریکٹر سٹاف سینیٹ افتخار مغل سمیت 25 افراد جاں بحق اور مولانا عبدالغفور حیدری سمیت 37 زخمی ہو گئے۔ اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ مولانا عبدالغفور حیدری ایک مدرسے کی تقریب میں شرکت کیلئے مستونگ آئے تھے اور جلسے سے خطاب کے بعد واپس جا رہے تھے کہ اسی دوران مستونگ روڈ پر زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں مولانا عبدالغفور حیدری سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے جنہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ اس دھماکے میں 25 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ کسی جگہ نصب ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا یا کسی خودکش بمبار نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی یہ ابھی قبل از وقت ہے ۔ تاہم جائے حادثہ سے ایک نوجوان کے جسم کے حصے بھی ملے ہیں جس سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی خودکش حملہ آور کو اس دھماکے کیلئے تیار کیا گیا ۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے جسم پر بھی کافی زخم آئے ہیں ، اس کے علاوہ ان کا گارڈ اور قافلے میں شریک دوسرے لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد مستونگ میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹروں کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا ۔ جائے حادثہ سے بم دھماکے کے شواہد اکٹھے کرنے کیلئے کوئٹہ سے بم ڈسپوزل سکواڈ اور ماہرین کی ٹیم پہنچ گئی ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے بھی بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈی پی او مستونگ محمد غضنفر نے دنیا نیوز سے گفتگو کے دوران کہا کہ جائے حادثہ سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں دھماکہ خودکش قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا۔ مارے جانے والوں میں مولانا عبدالغفور حیدری کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔ جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں قافلے کی رفتار معمول سے کم تھی جس کی وجہ سے قافلے کو نشانہ بنانے میں آسانی ہوئی۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی مولانا عبدالغفور حیدری پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے مولانا عبدالغفوری حیدری سے فون پر رابطہ کرتے ہوئے ان کی خیریت اور زندگی کیلئے دعا کی اور دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت بھی کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں