جنوبی سوڈان میں باپ نے بیٹی کو فیس بک پر نیلام کردیا

خرطوم:گزشتہ روز متحدہ عرب امارات میں مراکشی خاتون کی جانب سے اپنے بوائے فرینڈ کو قتل کرنے کے بعد گوشت پکا کر پاکستانی مزدوروں کو کھلانے کی خبر کے بعد ایک اور بے رحمانہ واقعہ جنوبی سوڈان میں پیش آیا ہے جہاں پر ایک بے رحم شخص نے اپنی بیٹی کو فیس بک پر نیلام کردیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انسانیت سوز واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد سے فیس بک کو زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، عوامی حلقے اس بات پر شدید نالاں ہیں کہ فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم پر اس گھناؤنے عمل کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

بچوں کے حقوق کی عالمی تنظیم ’پلان انٹرنیشنل‘ کا کہنا ہے کہ 17 سالہ لڑکی کو اس کے والد نے فیس بک پر نیلام کرنے کے لیے ایک ایونٹ منعقد کیا جس میں مختلف لوگوں نے بولیاں لگائیں اور ان میں کچھ حکومتی افسران بھی شامل تھے۔

نیلامی میں شامل ہر شخص نے لڑکی کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور کچھ نہ کچھ پیشکش کی تاہم لڑکی سے تین گنا زائد عمر کے ایک شخص نے اسے خریدلیا۔ رپورٹس کے مطابق بڑی عمر کے شخص نے 500 گائیں، دو لگژری کار، 10 ہزار امریکی ڈالر، اسمارٹ فونز اور دیگر مراعات کے عوض اسے خریدا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلاحی اداروں نے انسانی نیلامی کے عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ریت چل پڑی تو لوگ اپنی بیٹیوں کو نیلام کرنا شروع کردیں گے۔

اس نیلامی کے لیے استعمال ہونے والے پلیٹ فارم فیس بک نے وضاحت پیش کی ہے کہ 25 اکتوبر کو یہ پوسٹ لگائی گئی اور جب اس بارے میں معلوم ہوا تو فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے نہ صرف ہٹادیا گیا بلکہ اکاو¿نٹ بھی بند کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں