سعودی عرب میں ریڈکیٹگری والے کفیل کے ملازمین چھٹی پر کیسے جا سکتے ہیں ؟

ریاض : سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری نے اپنے ایک سوال میں پوچھا کہ وہ چھٹی پر پاکستان جانا چاہتا ہے لیکن اس کا کفیل اجاز ت نہیں دے رہا ۔

پاکستانی شہری کا مزید کہناتھا کہ وہ جب بھی اپنی چھٹی کے لیے کہتاہے تو اس کے کفیل کا جواب صرف یہ ہی ہوتاہے کہ اس کی خدمات ابھی احمر ( ریڈ ) زمرے میں آرہی ہیں ، اور یہ مسلہ تقریباََ تین سال درپیش ہے ۔اس کے جواب میں وزارت محنت کے مسائل کے قا نونی ماہر سعودی وکیل کا کہناہے کہ جب بھی سعودی عرب میں کام کے لیے ورک پرمٹ (کرت العمل ) جاری ہوتا ہے تو اس کے بعد ہی سعودی اقامے کی تجدید ممکن ہوتی ہے ۔سعودی عرب میں گزشتہ کچھ عرصے سے نظاقات ( کیٹگری) سسٹم نافذ کیا گیا تھا ، جس میں ہر کمپنی کی کارگردگی اور اس میں موجود سعودی ملازمین کی شرح سے گرین ، ریڈ اور یلو کیٹیگری رکھی گئی ہے ۔

جس کمپنی میں غیر ملکی ملازمین کے مقابلے میں سعودی ملازمین کی متعین کردہ شرح کم ہوگی ا س کو ریڈ کٹیگری میں شامل کیا جاتا ہے ۔ اس نطاقات سسٹم کا مقصد سعودی عرب میں سعودائزیشن کو فروغ دینااور سلسلہ وار مکمل طور پر نافذ کرناہے ۔ریڈ کیٹگری کی حامل کمپنیوں کو وزارت محنت کی طرف ( ریڈ) لسٹ میں شامل کر دیا جاتاہے ، اور اس کمپنی کے تمام امور اور کمپیوٹر سیسز کر دیئے جاتے ہیں ۔ جس کے بعد اس کمپنی کے اور اس میں کام کرنے والے تمام ملازمین کے سرکاری امور روک دیئے جاتے ہیں ، جن کارکنوں کے ورک پرمٹ کا اجرائ، اقاموں کی تجدید اور خروج و عود جیسے امور شامل ہیں ۔

جبکہ وہ کمپنیاں جو گرین، یلو، اور پلاٹینم کیٹگری کی حامل ہوتی ہیں ان کے ملازمین کے تمام امور باآسانی انجام پاتے ہیں ، اور ان کمپنیوں کو ویزوں کی مطلوبہ تعداد بھی جاری کی جاتی ہے ۔سعودی وکیل کا کہناتھاکہ مذکورہ پاکستانی شہری سب سے پہلے اس بات کا تعین کرنے کے لیے کے اس کا کفیل یا کفیل کی کمپنی کہیں ریڈ لسٹ میں شامل تو نہیں ؟ پاکستانی شہری کو وزارت محنت کی ویب سائٹ پر لاگ ان کر کے اقاموں کی تفصیل کے لیے مخصوص جانے میں اپنا اقامہ نمبر درج کرے اور نطاق سسٹم کے تحت اسے معلوم ہو جائیگا کہ اس کا کفیل ( کیٹیگری ) میں ہے یا نہیں ؟

اگر اس کے کفیل کی خدمات ( ریڈ ) کیٹگری میں آرہی ہیں تو پاکستان شہری پر اقامے کی تجدید، خروج وعود پر پابندی عائد ہوگی ۔ایسی کمپنی کے ملازمین پیشے تبدیل کروائے جاسکتے ، ویزے جاری نہیں ہوتے ، ورک پرمٹ جاری نہیں ہوتا، اور ان کی تجدید بھی نہیں ہوسکتی ۔واضح رہے کہ ورک پرمٹ ایک سال کی مدت کے لیے ہوتا ہے جس کی تجدید کے بعد اقامے کی تجدید ہوتی ہے ، اگر اسکا شاشہ ( ریڈ ) میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا خروج و عود بھی نہیں لگ سکتا ۔

سعودی وکیل کا کہناتھا کہ پاکستانی شہری ایسی صورت میں کفیل کی اجازت کے بغیر کسی بھی دوسری کمپنی میں خود سے اپلائی کرسکتاہے جو گرین یا پلاٹینم کیٹگری میں شامل ہو، جس کے بعد اس کو وہ تمام حقوق حاصل ہو جائیں گے جوسعودی عرب میں پلاٹینم کیٹگری کی حامل کمپنی ہو تے ہیں اور اسطرح باآسانی وہ خروج وعود پر جا سکتاہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں