لاہور : رواں برس پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے ایک مرتبہ پھر عروج حاصل کیا ہے، رواں برس نشر ہونے والے سات ڈرامے ایسے تھے جنہیں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی کافی پذیرائی۔

لاہور : رواں برس پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے ایک مرتبہ پھر عروج حاصل کیا ہے، رواں برس نشر ہونے والے سات ڈرامے ایسے تھے جنہیں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی کافی پذیرائی۔

تفصیلات کے مطابق رواں برس پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہوا ہے ، انڈسٹری نے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ حاصل کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے، رواں برس سات ڈرامے ایسے تھے جنہوں نے اندرون اور بیرون ملک ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے ۔

ان ڈراموں میں پہلا نمبر “آنگن” کو حاصل ہے جس کو رواں برس کا بہترین ڈرامہ قرار دیا جا رہا ہے، ہدایتکاری کے فرائض قاسم علی مرید نے انجام دیئے ہیں جبکہ فائزہ افتخار نے کمال سکرپٹ سے اس کے کرداروں میں جان بخشی ہے ، ڈرامے کی کہانی پنجاب کے ایک خاندان پر مبنی ہے جوکہ پی ٹی وی ڈراموں کے عروج کی عکاسی کرتا بھی دکھائی دیتا ہے، ڈرامے سے مضبوط سماجی پیغام رسانی کا بھی فرض ادا کیا گیا ہے۔

دوسرے نمبر پر ڈرامہ سیریل “میری گڑیا” کو رکھا گیا ہے جوکہ ہمارے معاشرے کی برائیوں کی عکاسی کرتا ہے، ڈرامے میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، معاشرتی نا انصافیوں کا ذکر کیا گیا ہے، ردین شاہ، سونیا حسین اور ثانیہ سعید نے لاجواب اداکاری سے ڈرامے کے کرداروں کو ناظرین کے سامنے پیش کیا ہے، ڈرامے میں خاندانوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ معاشرتی برائیوں کا کس طرح سے مقابلہ کر سکتے ہیں ۔

اس فہرست میں تیسرے نمبر پر جس ڈرامے کو رکھا گیا ہے اس کا نام “خانی” ہے جس کی کہانی عاصمہ نبیل نے لکھی ہے ، ہدایتکاری کے فرائض انجم شہزاد نے انجام دیئے ہیں ، ڈرامے کی کہانی ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جس کے جڑواں بھائیوں کا سیاستدان کا بگڑا بیٹا ہلاک کر دیتا ہے ، ثنا جاوید اور فیروز خان نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں ، ڈرامے کا او ایس ٹی راحت فتح علی خان کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے کافی مقبولیت حاصل کی ۔

چوتھے نمبر پر ڈرامہ سیریل ” ایسی ہے تنہائی “کو رکھا گیا ہے ، ڈرامہ میں سونیا حسین اور سمی خان نے جاندار اداکاری کی ہے ، کہانی سوشل میڈیا کے جرائم پر مبنی ہے کہ کس طرح معاشرے کی کالی بھیڑیں معصوم خواتین کی زندگیوں سے کھیلتی ہیں ۔ڈرامہ کی کہانی کو ہماری نوجوان نسل کی آنکھیں کھولنے کے لیے بہترین سبق قرار دیا جا رہا ہے ، کاسٹ نے اپنے کرداروں کو باخوبی ادا کیا ہے جس سے ڈرامے کے تجسس میں اور زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔

دو ہزار اٹھارہ میں ہٹ ہونے والا پانچواں ڈرامہ سنو چندہ کو قرار دیا جا رہا ہے جس کی کہانی رومانوی ہے اور خاندان کے دو اہم کرداروں لڑکا اور لڑکی کے درمیان رشتہ داری میں حائل رکاوٹوں پر روشنی ڈالتی ہے ، ڈرامہ میں طنزو مزاح کو شامل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس نے پاکستان کے ساتھ غیر ملکی ناظرین کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے ۔اقرا عزیز اور فرحان سعید نے ڈرامہ کی کہانی میں جان ڈالی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں