سعودی عرب میں جانور کے ساتھ بدسلوکی پر 4 لاکھ ریال جرمانہ ہوگا

ریاض:سعودی وزارت ماحولیات و پانی و زراعت نے اعلان کیا ہے کہ جانور کے ساتھ بدسلوکی پر 4 لاکھ ریال جرمانہ ہو گا، بعض حالات میں قید اور تشہیر کی سزا بھی دی جائے گی۔

وزارت ماحولیات نے ٹویٹر پر اپنے اکاﺅنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ جانور پر تشدد ، اس کے ساتھ مارپیٹ یا چارے سے محروم کرنا یا ایسا کوئی بھی کام اس کے ساتھ کرنا جو انسانیت اور اسلامی شریعت کے منافی ہو اس پر جانور پالنے والوں اور ان کے اداروں پر جرمانہ کیا جائےگا۔

وزارت ماحولیات نے سزاﺅں کی تفصیلات دیتے ہوئے واضح کیا کہ پہلی مرتبہ جانور کے ساتھ بدسلوکی پر 50 ہزار ریال تک کا جرمانہ ہو گا۔ پہلی خلاف ورزی کی تاریخ سے ایک سال کے اندر غلطی دہرانے پر جرمانہ ایک لاکھ ریال کر دیا جائے گا۔دوسری خلاف ورزی کی تاریخ سے ایک سال کے اندر اندر تیسری مرتبہ جانور پر تشدد یا بدسلوکی کرنیوالے کو 2 لاکھ ریال جرمانے کی سزا ہو گی اور متعلقہ ادارے کو 90روز کیلئے سربمہر کر دیا جائے گا۔

4لاکھ ریال جرمانہ تیسری خلاف ورزی کی تاریخ سے ایک برس کے اندر اندر چوتھی بار بدسلوکی پر کیا جائے گا۔ جانوروں کے پالنے والے ادارے کا لائسنس منسوخ کر دیا جائےگا۔ خاص حالات میں تشہیر کی سزا بھی دی جائے گی۔

خیال رہے کہ جازان میں سیکیورٹی اہلکاروں نے گزشتہ فروری میںکتے پر تشدد کرنے والے ایک سعودی شہری کو گرفتار کر لیا تھا۔ مقامی شہری کتے کو گاڑی سے باندھ کر ایک سڑک پر گھسیٹ رہا تھا۔اس کی ویڈیو کلپ نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔وزارت ماحولیات نے مبینہ واقعہ کے تناظر میں انتباہ جاری کیا تھا کہ جو شخص بھی جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کا مرتکب ہو گا یا مقررہ قوانین کی خلاف ورزی کرے گا اسے سخت سزا دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں