سعودی تیل بردار بحری جہازوں پر حملے میں ایران ملوث ہے، امریکہ

ابو ظہبی:امریکہ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات میں تقریبا کوئی شک نہیں رہا کہ امریکہ کو تیل فراہمی پر مامور سعودی بحری جہازوں پر حملے میں ایران ملوث ہے۔ خلیج عمان میں سعودی تیل بردار بحری جہازوں پر نامعلوم سمت سے حملے کی تحقیقات کے لیے 5 ممالک کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں امریکہ بھی شامل ہے اور اسی سلسلے میں وہ متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں وہ امیر ابوظہبی سمیت اہم حکام سے ملاقات کریں گے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے مشیر قومی سلامتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قابل اعتماد ساتھی جان بولٹن نے ابوظہبی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیج عمان میں سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہازوں کو ایران کی بحری آبدوزوں نے نشانہ بنایا۔مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے مزید کہا کہ تیل بردار سعودی بحری جہازوں پر حملہ آور ملک کے حوالے سے امریکہ میں کسی کے زہن میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کیا آپ لوگوں میں سے کوئی ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ یہ حملہ نیپال نے کیا ہو اور اس کا جواب ہوگا ہرگز نہیں۔

انہوں نے کہاکہ خلیج عمان میں سعودی تیل بردار بحری جہازوں پر نامعلوم سمت سے حملے کی تحقیقات کے لیے 5 ممالک کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں امریکا بھی شامل ہے اور اسی سلسلے میں وہ متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں وہ امیر ابوظہبی سمیت اہم حکام سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ ایران کے جوہری توانائی معاہدے کی بعض شقوں سے دستبردار ہونے اور خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی روکنے کی دھمکی دینے کے بعد 12 مئی کو خلیج عمان میں 4 تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا تھا جن میں سے دو سعودی جہاز تھے تاہم ایران نے اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں