نادرا کے 120 ملازمین برطرف، 9 ہزار سے زائد شناختی کارڈز منسوخ

اسلام آباد: غیر ملکیوں کو قومی شناختی کارڈز جاری کرنے والے نادرا کے 120 ملازمین کو برطرف کر دیا گیا جب کہ جعل سازی سے بنائے گئے 9 ہزار 554 کارڈز بھی منسوخ کیے گئے ہیں۔ آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے نادرا میں جعل سازی کے ذریعے شناختی کارڈز بنانے والے اہلکاروں کی برطرفی اور کارڈز کی منسوخی کی تحریری طور پر تفصیلات پیش کیں۔

وزیر داخلہ نے تحریری جواب میں بتایا کہ ایک لاکھ 21 ہزار 117 شناختی کارڈز مشکوک ہونے پر ضبط کر لیے گئے ہیں جب کہ 9 ہزار 554 کو منسوخ کیا جا چکا ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق بلوچستان میں بھی 22 ہزار 72 کارڈز مشکوک ہونے پر ضبط کر لیے ہیں جب کہ ضلعی سطح کی کمیٹی کی رپورٹ پر 1450 کارڈز منسوخ کیے گئے ہیں۔

وزارت داخلہ کی جانب سے دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے جرائم کی تفصیلات سے متعلق تحریری طور پر جواب جمع کرایا گیا۔

تحریری جواب کے مطابق اسلام آباد میں گزشتہ 6 ماہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں جرائم میں 35.16 فیصد کمی آئی۔ گزشتہ سال جرائم کے کیسز 1453 تھے جو رواں سال 938 رہ گئے۔ آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے نادرا میں جعل سازی کے ذریعے شناختی کارڈز بنانے والے اہلکاروں کی برطرفی اور کارڈز کی منسوخی کی تحریری طور پر تفصیلات پیش کیں۔

وزیر داخلہ نے تحریری جواب میں بتایا کہ ایک لاکھ 21 ہزار 117 شناختی کارڈز مشکوک ہونے پر ضبط کر لیے گئے ہیں جب کہ 9 ہزار 554 کو منسوخ کیا جا چکا ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق بلوچستان میں بھی 22 ہزار 72 کارڈز مشکوک ہونے پر ضبط کر لیے ہیں جب کہ ضلعی سطح کی کمیٹی کی رپورٹ پر 1450 کارڈز منسوخ کیے گئے ہیں۔

وزارت داخلہ کی جانب سے دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے جرائم کی تفصیلات سے متعلق تحریری طور پر جواب جمع کرایا گیا۔

تحریری جواب کے مطابق اسلام آباد میں گزشتہ 6 ماہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں جرائم میں 35.16 فیصد کمی آئی۔ گزشتہ سال جرائم کے کیسز 1453 تھے جو رواں سال 938 رہ گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں