کینسر کی وہ قسم جس کی تشخیص کتے صرف سونگھ کر کسی بھی مشین یا ڈاکٹر سے بہتر کرسکتے ہیں

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کینسر کی تشخیص کے لیے مشینوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور کئی طرح کے ٹیسٹ کرنے پڑتے ہیں لیکن اب امریکہ کے ’لیک ایری کالج آف اوسٹیوپیتھک میڈیسن‘ کے سائنسدانوں نے کینسر کی تشخیص کے متعلق ایک حیران کن انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کینسر کی ایک قسم ہے جس کی تشخیص کتے جدید مشینوں اور ڈاکٹروں کی نسبت کئی گنا زیادہ بہتر کر سکتے ہیں۔ یہ پھیپھڑوں کا کینسر ہے جس کا سراغ کتے سونگھ کر لگا سکتے ہیں اور 97فیصد درستگی کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ کسی شخص کو یہ کینسر لاحق ہے یا نہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست الباما کے شہر برمنگھم میں سنڈی رابرٹس نامی ایک خاتون ہے جو کتوں کو اس کام کے لیے تربیت بھی دے رہی ہے اور اب تک وہ 12کتوں کو تربیت دے چکی ہے، انہی میں سے کچھ کتوں کو اس تحقیق میں شامل کیا گیا تھا جنہوں نے تحقیق میں شامل لوگوں میں پھیپھڑوں کا کینسر ہونے یا نہ ہونے کی تشخیص کی۔ اب سنڈی رابرٹس اوورین (Overian)کینسر کی تشخیص کے لیے بھی کتوں کو ٹریننگ دے رہی ہے۔ سنڈی کا کہنا ہے کہ” اوورین کینسر، کینسر کی وہ قسم ہے جس کی تشخیص کرنا سب سے مشکل کام ہے، یہ زیادہ تر اس وقت پکڑی جاتی ہے جب آخری سٹیج پر پہنچ چکی ہوتی ہے۔ تب مریضہ کا بچنا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔ جلد سائنسدان کینسر کی اس قسم کی تشخیص بھی کتوں سے کروانے کی تحقیق کرنے والے ہیں اور میرے تربیت یافتہ کتے اس تحقیق کا بھی حصہ ہوں گے۔“

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں