وزیراعلیٰ سندھ کی نااہلی کی درخواست سماعت کیلئے منظور

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ کی نااہلی کیلئے دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے مراد علی شاہ کو نوٹس جاری کر دیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رکنی بینچ نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی دہری شہریت اور اقامے پر نااہلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت وکیل حامد خان نے کہا کہ مراد علی شاہ کو دوہری شہریت پر سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا۔ انہوں نے 2013 کے فیصلے پرنظرثانی کیلئے رجوع نہیں کیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کیلئے عدالتی ڈکلیئریشن چاہیے اور اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ڈکلیئریشن ہے۔ ہر امیدوار اپنی اہلیت کا بیان حلفی ریٹرننگ افسر کو جمع کراتا ہے، جھوٹا بیان حلفی دینے پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوتا ہے۔

حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ مراد علی شاہ نے الیکشن 2013 میں جھوٹا بیان حلفی دیا۔ انہوں نے کینیڈین شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرایا تھا اور مراد علی شاہ 2008 کے الیکشن میں دوہری شہریت کے ساتھ منتخب ہوئے۔ 2012 میں سپریم کورٹ نے تمام ارکان اسمبلی سے دوہری شہریت کے بیان حلفی مانگے اور مراد علی شاہ نے بیان حلفی کے بجائے اسمبلی رکنیت سے استعفی دیا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ دو ایک کی اکثریت کی بنیاد پر کیا اور مراد علی شاہ کی نااہلی کیلئے دائر نظرثانی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کر دیا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے فیصلے سے اختلاف کیا جب کہ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن نے نوٹس جاری کرنے کی حمایت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں