موسم سرما کی آمد آمد”احتیاط کریں“

موسمی تبدیلی خواہ وہ سردی سے گرمی ہو اور چاہے گرمی سے سردی ہو ،ہر دوصورتوں میں انسانی وجود کو متاثر کرتی ہے۔موسم سرما کے بارے میں مشہور ہے کہ سردی کا موسم جذبات میں سرد مبری پیداکرتا ہے لیکن دھند،کہراور سردی کی شدت اس کی خاص پہچان ہیں۔اس موسم کی یخ بستگی جہاں لہو کی گرمی میں سردی کا رنگ بھرتی ہے ،وہیں زندگی کی دل فریبی میں بھی ایک نیا جنون اور ترنگ پیدا کرتی ہے۔

موسم سرما واحد موسم ہے جو سب کے لیے یکساں طور پر محبوب و مرغوب ہوتاہے۔کھانے کے رسیا افراد کو جی بھر کے کھانے کا موقع ملتا ہے ،رنگ برنگے پہناوے پہننے والوں کو بلا خوف و خطر ہر طرح کے فیشنوں پر طبع آزمائی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ،پسینے کی بدبو اور مچھروں کی بھوں بھوں سے جان چھوٹی رہتی ہے،طویل راتیں خوب جی بھر کے سونے کا موقع فراہم کرتی ہیں ۔

دن کی دل آویزدھوپ صحت بھری تمازت لیے جسم کو گرماتی ہے۔موسم سرما کا جب آغاز ہوتا ہے تو اچانک خنکی بڑھ جانے سے نزلہ،زکام ،فلو،کھانسی اور ورم حلق جیسے عوارض سے پالا پڑنا معمول کی بات ہے۔
موسم گرما کے بعد جب سردی کا آغاز ہونے لگتا ہے تو انسانی وجود بیماریوں کے نرغے میں زیادہ آتا ہے۔ایسے میں ہم غذائی پر ہیز اور احتیاط اپنا کر مذکورہ امراض سے خاطر خواہ حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
بدلتے موسم کا سب سے خطر ناک مرض نزلہ وزکام کو سمجھا جاتاہے۔جبکہ نزلہ وزکام ایسے الفاظ ہیں جن سے ہر انسان صرف آشناہی نہیں بلکہ کبھی نہ کبھی ضرور اس کی گرفت میں آچکا ہو گا۔ہمارے ہاں صحت کا مناسب شعور نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت نزلے وزکام کو معمولی بیماری سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اگر کچھ لوگ اس طرف دھیان بھی دیں تو ایک جو شاندہ پی لینے یا پھر ڈسپرین لینے کو کافی خیال کر لیتے ہیں۔
حالانکہ یہ مرض اتنا غیر ضرر بھی نہیں جتناکہ ہم تصور کرتے ہوئے اس کے علاج پر توجہ نہیں دیتے۔طبی ماہرین کے نزدیک اگر نزلے کا بر وقت اور مناسب سد باب نہ کیا جائے یہ کئی موذی اور تکلیف دہ عوارض کو بدن انسانی پر مسلط کرنے کا ذریعہ بن کر تندرستی اور صحت مندی کو کھا جاتاہے۔
یاد رکھیں !نزلہ ایک ایسانا مراد مرض ہے جو کھانسی کا سب سے بڑا ذریعہ بنتا ہے۔
لیکن یاد رہے ایسے افراد جن کا حلق حساس ہوتاہے اور ہلکی سی بے احتیاطی سے گلے کا ورم ظاہر ہوجاتا ہے تو ان کے زکام اور کھانسی کا سبب گلے کی حساسیت بنتی ہے ۔لہٰذا نہیں چاہیے کہ وہ صرف اپنے گلے کی حساسیت کے پیش نظر موسم کی تبدیلی کے ساتھ ٹھنڈے پانی ،ترش غذاؤں ،چکنائیوں اور مرغن خوراک سے احتیاط شروع کردیں۔اگر وہ اپنے حلق کی حساسیت کے مسائل کا توڑکرلیں تو وہ دیگر کئی عوارض سے محفوظ ہو جائیں گے۔
جب گلے میں ورم کی کیفیت پیداہوتی ہے تو ہلکا سابخار اور زکام بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
عمومی احتیاط
احتیاط بہتر ہے علاج سے کے یونیورسل کلیے کو اپنا کرہم خاطر خواہ حد تک نزلہ وزکام سمیت کئی دیگر موسمی اور وبائی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔موسم کی تبدیلی کے مخصوص وقت سے چند روز قبل ہی موسمی غذا،لباس اور طرز بودوباد اختیار کر لی جائے ۔
شہد قادر مطلق کی طرف سے ایک نعمت بے بہاسے کم نہیں اس میں حکیم کا ئنات نے کمال قوت شفاء یابی رکھی ہے۔شہد کاباقاعدہ استعمال بدن انسانی میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کو مضبوط کرتاہے۔موسم کی مناسبت سے اس کا استعمال کیاجائے تو یہ ہمیں کئی خطر ناک امراض کے حملوں سے بچائے رکھتاہے۔
موسم سرما کی ابتداء سے ہی نیم گرم پانی میں ملا کر نہار منہ پینا بے شمار فوائد کا حامل ہوتاہے۔
اسی طرح دار چینی کا قہوہ بنا کر پینا یا دار چینی کو دودھ میں پکا کر استعمال میں لانازکام اور نزلہ سے محفوظ رکھتا ہے۔ادرک اور اجوائن کا قہوہ پینا بھی وبائی موسمی زکام سے نجات دلاتا ہے ۔موسم کی تبدیلی بچوں کو خاص کر متاثر کرتی ہے لہٰذا بدلتے موسم میں بچوں کو انتہائی تو جہ اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔بچوں کے زکام وغیرہ میں الائچی کلاں ،دار چینی ،لونگ اور منقیٰ کا قہوہ بنا کر وقفے وقفے سے نصف سے پورا چمچ پلائیں۔
جلد ہی بچہ صحت یاب ہو گا۔بلغمی غلبے کی صورت میں بچوں کو سہاگہ بریاں کر کے 1سے2رتی شہد میں ملا کر دینا بھی شفایابی کا ذریعہ بنتاہے۔سردیوں میں کان ناک اور پیشانی ڈھانپ کر ہی کھلی فضاء میں آیا جائے۔ عام طور پر سردی کا حملہ ناک ،کان اور پیشانی کے راستے ہی ہوا کرتاہے۔
گھریلو تراکیب
نزلہ،زکام اور کھانسی کے اچانک حملہ آور ہو جانے کی صورت میں درج ذیل جو شاندہ بنا کر 2اور3 خوراکیں پینے سے ہی ان کی تکلیف سے نجات مل جاتی ہے۔
گل بنفشہ 10 گرام ،گاؤ زبان5 گرام، لہسوڑیاں3گرام ،تینوں اجزاء کو2کپ پانی میں پکا کر حسب ضرورت چینی ملا کر 4گھنٹے کے وقفے سے ایک کپ پئیں۔انشاء اللہ زکام اور کھانسی سے چھٹکارا حاصل ہو گا۔گل بنفشہ10 گرام،گل سرخ10گرام،برگ گاؤ زبان10گرام،اسطوخود وس10گرام،چھلکا ہر ڈزرد10 گرام سب اجزاء کو باریک پیس کر ہموزن مصری ملا کر رکھیں۔3گرام خوراک دن میں 3بار سادہ پانی سے استعمال کریں۔
یادرہے اس سفوف کو حفظ ما تقدم کے طور پر بھی استعمال کیا جائے تو کافی حد تک نزلے اور زکام کے حملے سے بچت بھی ہو جایا کرتی ہے۔
ادویاتی علاج
نزلہ وزکام اور کھانسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے روایتی دوا ساز اداروں نے بے شمار ادویات تیار کررکھی ہیں۔ ان میں چند با آسانی دستیاب ہونے والی تحریرکی جاتی ہیں۔نزلہ وزکام اور کھانسی میں درج ذیل طبی مرکبات کے استعمال سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
شربت صدر،لال شربت،شربت بنفشہ ،خمیرہ مروار ید ،خمیرہ خشخاش ،خمیرہ بنفشہ،خمیرہ ابریشم سادہ، خمیرہ گاؤزبان سادہ ،لعوق سپستاں ،لعوق خیار شنبر ،اطریفل اسطخودوس،اطریفل زمانی ،اطریفل کشنیزی وغیرہ وغیرہ۔علاوہ ازیں جو شاندے اور شربت وغیرہ بھی بازار میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جنہیں استعمال کرکے اس مرض سے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔

گندم کے آٹے سے نکالے گئے پھوک کو پانی میں ابال کر اس کی بھاپ لینا بھی نزلہ وزکام سے نجات دلاتا ہے ۔بلغمی مزاج والے بوڑھے افراد لونگ یا دارچینی کو بطور ،قہوہ استعمال کریں تو بھی انہیں افاقہ ملتاہے۔سردیوں کے موسم میں پھیپھڑوں میں آکسیجن کی رسد کم ہونے کی وجہ سے بھی کھانسی کا عارضہ لاحق ہو جایا کرتاہے۔ایسی صورت حال میں الائچی کلاں کا قہوہ بنا کر پینے سے افاقہ ہوتاہے۔
ایسی علامات عام طور پر خشک سردی یعنی بارش نہ ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا کرتی ہیں۔
غذائی پرہیز
گرم ،محرک،مرغن اور تلی ہوئی اشیاء سے احتراز برتیں۔بڑا گوشت،بینگن ،دال مسور ،ضرور ت سے زائد چائے،کافی ،قہوہ وغیرہ سے بھی اجتناب کریں ۔کولا مشروبات بیکری مصنوعات (ہلکے پھلکے بسکٹ ،سلائس اور رس وغیرہ کھائے جاسکتے ہیں)چاول،چکنائیاں ،چوکلیٹ ،مٹھائیاں اور تیز مصالحہ جات والی غذاؤں سے مکمل پر ہیز کیا جائے۔
ہاں البتہ دیسی چوزے کی یخنی نما شوربہ اور چربی سے صاف کئے گئے بکرے کے گوشت کی تری زکام اور نزلے سے جلد جان چھڑانے میں خاطر خواہ حد تک ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں ۔دوران بیماری ہلکی پھلکی غذائیں کھائیں کھچڑی،جو کا یاگندم کا دلیا استعمال کریں تو بہت ہی مناسب ہو گا۔اس کے علاوہ پھلوں کے رس وغیرہ یا پھلوں کااستعمال بھی مفید ہوتاہے۔یادرکھیں اگر گھریلو تراکیب آزمانے کے باوجود علامات بر قرار رہیں تو کسی ماہر معالج سے مشاورت کرکے جلد از جلد بیماری سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کریں ۔اگر آپ نے ذراسی بھی کوتاہی کا مظاہرہ کیا تو خدا نخواستہ مرض میں بگاڑ پیدا ہو کر آپ کے لیے مزید مسائل کا باعث بن سکتاہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں