نوازشریف کے پلیٹ لیٹس میں پھر کمی لیکن دراصل یہ پلیٹ لیٹس کیا ہوتے ہیں اور ان کا کام کیا ہے ؟

لاہور(ویب ڈیسک) نیب کی زیرحراست سیاستدانوں کے پلیٹ لیٹس میں کمی کی خبروں نے سوشل اور روایتی میڈیا پر ہنگامہ برپاکیا ہوا ہے لیکن دراصل یہ پلیٹ لیٹس ہوتے کیا ہیںاور ان کاکام کیا ہے؟دراصل بظاہر سرخ دکھائی دینے والے خون میں سرخ اور سفید خلیوں کے علاوہ پلیٹ لیٹس بھی ہوتے ہیں۔

پلیٹلٹس کا لفظ دراصل پلیٹ سے ماخوذ ہے۔ پلیٹ لیٹس انسانی جسم میں موجود خون میں پلیٹ کی شکل کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں اور ان کے گرد جھلی بنی ہوتی ہے۔ ان کا کام خون کے جسم سے انخلا کو روکنا ہوتا ہے۔ یہ خلیات خون میں گردش کرتے رہے ہیں۔ جسم کے کسی بھی حصے میں چوٹ یا زخم کی صورت میں وہاں سے خون نکلنے لگتا ہے تو یہ وہاں جمع ہوکر جھلی سی بنا لیتے ہیں جو وقت کیساتھ ساتھ خشک ہوکر الگ ہوجاتی ہے ۔

پلیٹ لیٹس خون کو جسم سے باہر آنے سے روکتے ہیں۔ضرورت پڑنے پر دماغ کو سگنلز بھیجتے ہیں کہ مزید پلیٹلٹس ادھر آجائیں اور یوں سارے جمع ہو کر خون بہنے سے روکتے ہیں۔لیکن پلیٹ لیٹس کے نہ ہونے یا کمی کی صورت میں خون پتلا ہوکر جسم سے باہر آنے کا خطرہ ہوتا ہے اور ایسی صورت میں پلیٹ لیٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے خون کو روکنا بھی مشکل ہوتاہے ۔

یہی وجہ ہے کہ سابق وزیراعظم کو شیو اور برش کرنے سے بھی روک دیا گیا ، اس صورت میں کوئی کٹ لگنے یا مسوڑھوں سے ممکنہ طورپر نکلنے والے خون کو روکنا مشکل ہوجائے گا، صرف یہی نہیں بلکہ پلیٹ لیٹس کی کمی س برین ہیمرج ہونے کا بھی خطرہ ہوتاہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق ایک نارمل آدمی کے خون میں ان کی مقدار ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ تک ہوتی ہے ۔وہ آخری سٹیج ہوتی ہے جب ان کی مقدار چند ہزار رہ جائے۔ اس سٹیج پر ڈیڈ لائن شروع ہو جاتی ہے جس سے مریض کی موت واقع ہو نے کا خطرہ ہوتا ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسی وجہ سے نوازشریف کو شیو اور برش کرنے سے بھی روکاگیا ہے کیونکہ خون رسنے کی صورت میں پلیٹ لیٹس کی کمی کی وجہ سے خون کا رکنا مشکل ہوجاتاہے ۔

روزنامہ نوائے وقت میں اسداللہ غالب نے لکھا کہ ڈینگی،،کوئی اور وائرل انفیکشن مثلاََ ہیپا ٹائٹس بی اور سی، امراض بلڈ کینسر، لیو کیمیا ، ایڈز، SLE، مختلف بیکٹیریااور جوڑوں کے دردمیں بھی خون میں پلیٹلٹس کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ مختلف قسم کی ادویات لینے سے بھی ایک دَم پلیٹلٹس گر سکتے ہیں۔ پلیٹلٹس گرنا شروع ہوجائیں تو وہ ایک دَم مزید گرتے ہیں، جسم کی قوت مدافعت میں کمی آجاتی ہے۔پلیٹلٹس گرنے کی ایک مشہور وجہ ITP ہے جس کا مطلب ہے کہ جسم کا مدافعاتی نظام غیر فعال ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ان کی مقدار بتدریج کم ہو جاتی ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ مختلف قسم کی کینسر کی بیماری میں استعمال ہونےوالی ادویات، مرگی کی بیماری کی ادویات اور ہیپارین Heparain لینے سے بھی ان کی مقدار گر جاتی ہے۔خون میں جب پلیٹلٹس کی مقدارر گرتی ہے تو جسم میں کمزوری ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ قوت مدافعت ختم ہونے کی وجہ سے بندہ ڈائون ہوجاتا ہے۔ جسم میں شدید کمزوری، جوڑوں میں درد ہوتاہے۔ منہ مسوڑھوں اور ناک سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ جوڑوں میں سوجن ہو جاتی ہے۔ بلیڈنگ زیادہ ہونے کی وجہ سے شاک میں جانے کی وجہ سے موت بھی ہوسکتی ہے۔
.
جسم پر سرخ رنگ کے دھبے نمودار ہوتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جسم پر کسی نے چاقو سے زخم لگائے ہوئے ہیں۔ کٹ لگنے سے جسم کے مختلف حصوں سے خون رستا ہوا محسوس ہوتاہے۔ جسم پہ ذرا سا کٹ لگ جائے تو خون بہنا بند نہیں ہوتا۔ مرض کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ سی بی سی ، ہیپاٹائٹس بی اور سی ، ٹوٹل باڈی ایکین۔ بون میروسیمئر اور PET سکین کروائے جاتے ہیں جن سے بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے۔

بیماری میں تلی بھی بڑھ جاتی ہے۔ وٹامن بی اور بی نائن کی کمی کی وجہ سے بھی پلیٹلٹس کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ پلیٹلٹس کم ہونے کا اچانک پتہ چلتا ہے۔ ان میں بتدریج کمی ہوتی رہتی ہے لیکن جب تک بیماری سے بندہ ادھ موا نہیں ہو جاتا، اس کا پتہ نہیں چلتا۔ اس کے بعد تشخیص کرنے سے اس کمی کی وجہ کا پتہ چلتا ہے۔

لیکن جسم کے مختلف حصوں سے بلیڈنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیماری خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ جسم کے مختلف حصوں سے بلیڈنگ ہو جانا میڈیکل ایمرجنسی ہے۔ فوراََ ڈاکٹر اور ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیے۔فوری طور پر پلیٹلٹس کی کمی کو میگا پلیٹلٹ کٹس لگا کر پورا کیا جاتا ہے مگر ان کے لگانے کے باوجود پلیٹلٹس اور خون کے سفید خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ جاری رہتی ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ میگا کٹس کے علاوہ جسم کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیےImmumoglobulin کی ڈرپس لگائی جاتی ہیں۔ اگر خون میں پلیٹلٹس کی مقدار کسی بیماری کی وجہ سے نہ گررہی ہو جیسا کہ ITP کی بیماری میں ہوتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ خود ہی نارمل مقدار میں آنا شروع ہو جاتے ہیں۔اگر کسی دوا کی وجہ سے کمی ہو رہی ہو تو فوری طور پر اس دوا کو بند کر دیا جاتا ہے۔

ڈینگی کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اس بات کا مشاہدہ اور تجربہ کیا گیا کہ ڈینگی وائرس سے متاثر مریضوں میں ڈینگی بخار میں جب پلیٹلٹس کی مقدار گرتی ہے تو پیپتا کے پتوں کا جوس استعمال کرنے سے فوری طور پر ان کی مقدار میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔ ڈینگی بخار کے ہزاروں مریضوں کو پیپتا کے پتوں کا جوس دیا گیا جسے لینے کے بعد ان کے پلیٹلٹس کی تعداد دو تین دن میں نارمل ہوگئی۔

دینگی کے علاوہ ITP کے مریضوں میں بھی پپیتا کا شربت کامیابی سے استعمال کیا گیا ،اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی اور سی میں بھی خون میں پلیٹلٹس کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ ان مریضوں میں پپیتا کے پتوں کا جوس کامیابی سے استعمال کیاگیا۔ اگر کچھ بن نہ پڑے تو پھر پلیٹلٹس کی میگا کٹس لگاتے ہیں اور اس سے بھی فرق نہ پڑے تو پھر جسم کے مدافعاتی نظام کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے ImmunoGlobulin کی ڈرپس لگاتے ہیں ۔ ساتھ ساتھ سٹیرائیڈ دوائیں بھی دیتے ہیں جن سے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر پلیٹلٹس کی مقدار میں کمی ہوتی رہے تو اور کوئی علاج کار گر نہ ہو تو پھرآپریشن کرکے تلی کو نکال دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے پلیٹلٹس کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔ اگر سیٹرائیڈ دوائیں بھی کارگر نہ ہوں تو مدافعانی نظام کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے رٹوکوسین نامی دوا دیتے ہیں جس سے بعض صورتوں میں افاقہ تو ضرور ہوتا ہے۔ لیکن اس طرح کی دوائوں کے مضر اثرات بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اور بھی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔

ان سب باتوں کے باوجود یہ حقیقت یہ ہے کہ شفاء من جانب اللہ ہے۔ اللہ چاہیں توپپیتا کے پتوں کے جوس سے بھی ITP اور پلیٹلٹس کم ہونے کی دوسری وجوہات کو ختم کر سکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں