روئی کی قیمت پچھلے 9 سال کی نئی بلند ترین سطح پر10 ہزار روپے فی من ہوگئی

کراچی (ویب ڈیسک) پریمئم کوالٹی روئی کی قیمتیں 200 روپے فی من اضافے کے ساتھ پچھلے 9 سال کی نئی بلند ترین سطح 10 ہزار روپے فی من ہوگئی ہیں۔دوسری طرف حکومت کی جانب سے نئے ٹیکسز کا نفاذ اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگی پر صنعتکار پریشان ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسز اور ملازمین کی تنخواہیں دینا مشکل ہوجائے گا۔

روئی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ریگولر روئی سو روپے فی من اضافے سے نو ہزار سات سو روپے فی من تک پہنچ گئی ہے۔کراچی میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملزایسوسی ایشنز کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ٹیکس ریفنڈز نہ ملنے کے سبب فیکٹریاں چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ان حالات میں رواں ماہ سے حکومت کو مزید ٹیکس اور ملازمین کو تنخواہیں دینا مشکل ہوجائے گا۔ٹیکس ریفنڈز کا شور اپٹما تک محدود نہیں رہا۔

ہوزری مینیوفیکچررزبھی متاثر ہونے لگے۔ان کا کہنا ہے کہ رقم نہ ملنے سے برآمدی آڈرز کی تیاری مشکل ہوگئی ہے۔ان حالات میں بھی چیئرمین ایف بی آر ٹی وی پر مسکراتے دکھائی دیتے ہیں۔حکومت کو ٹیکس ریفنڈ کی مد میں صنعتکاروں کو 300 ارب کی ادائیگی کرنا ہے جس کے لئے حکومت نے بانڈز بھی جاری کئے تھے جوناقابل استعمال ہیں۔

دوسر ی جانب ملک میں کپاس کی پیداوار میں کمی کے نتیجے میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان ہے۔ ریگولر روئی کی قیمتیں 100 روپے فی من اضافے کے ساتھ 9 ہزار 700 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے۔پریمئم کوالٹی روئی کی قیمتیں 200 روپے فی من اضافے کے ساتھ پچھلے 9 سال کی نئی بلند ترین سطح 10 ہزار روپے فی من ہوگئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں