ایران، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف احتجاج، ہلاکتیں 100 سے تجاوز

تہران: ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف گذشتہ 6 روز سے جاری مظاہروں میں اب تک 106 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دعوے کے مطابق ایران میں 6 روز سے جاری مظاہروں میں 106 افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ اموات کی اصل تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان کے بعد اقوام متحدہ نے ایران میں ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور طاقت کے استعمال کے خلاف ایرانی حکومت کو متنبہ کیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے سرکاری طور پر 3 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت صرف 5 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں پٹرول کی قیمتیں بڑھائے جانے پر متعد شہروں میں حکومت مخالف پرتشدد مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے متعدد پیٹرول پمپس، بسوں، بینکوں اور دکانوں کو آگ لگا دی۔ مختلف علاقوں میں ٹریفک کو بلاک کر دیا گیا جب کہ کچھ نے ایندھن کے اسٹوریج ہاؤس پر بھی حملے کی کوشش کی۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اور ملک کے اکثر شہروں میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی معطل ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے گذشتہ دنوں پیٹرول کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ کر دیا گیا تھا جب کہ پیٹرول کی خریداری کے لیے کوٹے کا نفاذ بھی کیا گیا ہے۔

حکام نے پیٹرول کی قیمتوں میں دی جانے والی رعایت کو کم کیا ہے جس کا مقصد امریکا کی طرف سے لگائی گئی اقتصادی اور تجارتی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں