آرمی چیف کی توسیع معاملہ،سپریم کورٹ میں سماعت دوپہر تک ملتوی

جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ کیا رولز پر بحث کے لیے وقت دیا گیا؟۔

اٹارنی جنرل نے مثبت میں جواب دیا کہ ارکان کو وقت دیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں دکھائیں کہ کابینہ نے کل کیا منظوری دی ہے، ہم نے تو مواد دے کر فیصلہ لکھا تھا۔

حکومت کے وکیل منصورعلی خان نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 255 میں ایک ایسا لفظ ہے جو اس معاملے کا حل ہے، اس آرٹیکل میں حالات کے تحت اگر ریٹائرمنٹ نہ دی جاسکے تو دو ماہ کی توسیع دی جاسکتی ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اگر جنگ ہو رہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جا سکتی ہے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست دینے والے ریاض حنیف راہی بھی عدالت میں پیش ہو گئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ راہی صاحب آپ کہاں رہ گئے تھے، کل آپ نہیں آئے لیکن ہم نے آپ کی درخواست زندہ رکھی۔

ضرور پڑھیں: آرمی چیف کی تعیناتی وزیر اعظم کا حق ہے:اعتزاز احسن
درخواست گزار نے کہا کہ حالات مختلف پیدا ہو گئے ہیں جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ہم انہی حالات میں آگے بڑھ رہے ہیں، آپ تشریف رکھیں۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست جیورسٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں سیکریٹری دفاع اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

اٹارنی جنرل اور فروغ نسیم حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے جب کہ درخواستگزار ریاض حنیف راہی بھی عدالت میں موجود ہیں جبکہ سماعت دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردی گئی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ بینچ میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس منصور علی شاہ بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی گئی تھی۔

ضرور پڑھیں: پٹرول کی فی لیٹر قیمت 75 روپے ہے ، عظمیٰ کاردار
وزیراعظم آفس سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کردیا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں