آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت جاری

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہو گئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت شروع کردی۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور اور بیرسٹر فروغ نسیم عدالت میں پیش ہو گئے۔چیف جسٹس نے جنرل کیانی کی توسیع اورجنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کی دستاویزات مانگ لیں اور ریمارکس دیئے کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں ان دستاویزات میں کیا لکھا ہے۔ سوال یہ بھی ہے آپ نے کہا ہے جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے اس معاملے پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں۔ سوال یہ بھی ہے اگر جنرل ریٹائر نہیں ہوتے تو پینشن بھی نہیں ہوتی، جائزہ لیں گے جنرل کیانی کی توسیع کن بنیادوں پر ہوئی تھی۔ 15 منٹ تک جنرل کیانی کی توسیع کی دستاویزات پیش کر دیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نئی تعیناتی 243 (1) بی کے تحت کی گئی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو ہمیں مطمئن کرنا ہو گا، اب ہونے والی تعیناتی درست کیسے ہے، سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں اور اپنا کام خود کریں ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں۔ عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں، سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں، آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کردی گئی اور آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں جبکہ جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے، عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں اور صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے۔ جسٹس منصور نے ریمارکس دیئے کہ 3 سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ہے۔آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی ہوئی۔ اٹرانی جنرل نے کہا کہ اگر مدت مقرر نہ کریں تو تاحکم ثانی آرمی چیف تعینات ہو گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب آپ نے سینے سے لگا کر رکھی ہے اور آرمی رولز بھی کتاب پر لکھا ہے غیر متعلقہ بندہ نہ پڑھے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پہلے توسیع ہوتی رہی اور کسی نے جائزہ نہیں لیا، کوئی دیکھتا نہیں کہ کنٹونمنٹ میں کیا ہو رہا ہے، کس قانون کے تحت کوئی کام ہو رہا ہے اور اب آئینی ادارہ اس مسئلے کا جائزہ لے رہا ہے، آئینی عہدے پر تعیناتی کا طریقہ کار واضح لکھا ہونا چاہیے۔ عدالت میں آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کی سمری عدالت میں پیش کی گئی جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سمری میں آرمی چیف کی تنخواہ کا ذکر ہے نہ مراعات کا۔چیف جسٹس نے جنرل کیانی کی توسیع اورجنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کی دستاویزات مانگ لیں اور ریمارکس دیئے کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں ان دستاویزات میں کیا لکھا ہے۔ سوال یہ بھی ہے آپ نے کہا ہے جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے اس معاملے پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں۔ سوال یہ بھی ہے اگر جنرل ریٹائر نہیں ہوتے تو پینشن بھی نہیں ہوتی، جائزہ لیں گے جنرل کیانی کی توسیع کن بنیادوں پر ہوئی تھی۔ 15 منٹ تک جنرل کیانی کی توسیع کی دستاویزات پیش کر دیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نئی تعیناتی 243 (1) بی کے تحت کی گئی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو ہمیں مطمئن کرنا ہو گا، اب ہونے والی تعیناتی درست کیسے ہے، سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں اور اپنا کام خود کریں ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں۔ عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں، سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں، آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کردی گئی اور آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں جبکہ جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے، عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں اور صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے۔ جسٹس منصور نے ریمارکس دیئے کہ 3 سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا، یہ ہماراحق ہے کہ سوال پوچھیں۔ جسٹس منصورنے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی بار آرمی قوانین پڑھے ہونگے، آپ تجویز کریں آرمی قوانین کو کیسے درست کریں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مدت نوٹیفکیشن میں 3 سال لکھی گئی ہے اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے۔ ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس کا سب کو علم ہو اور 3 سال تعیناتی اب ایک مثال بن جائے گی۔ ہو سکتا ہے اگلے آرمی چیف کو حکومت ایک سال رکھنا چاہتی ہو۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا حکم نامہ معطل کر دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں