کسی صورت تحریک انصاف نہیں چھوڑوں گا، حامد خان کا شوکاز نوٹس کا جواب

اسلام آباد:معطل ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارٹی نہ چھوڑنے کا اعلان کردیا اور انہوں نے کہا کہ پارٹی ان کے لیے سب کچھ ہے اور وہ کسی صورت اسے نہیں چھوڑیں گے۔

نو صفحوں پر مشتمل اپنے جواب میں حامد خان نے کہا کہ میں نے پارٹی کو بہت وقت دیا، کوئی بھی مفاد پرست، زمین پر قبضہ کرنے والا، شوگر اور کرپٹ مافیا مجھے پارٹی سے نہیں نکال سکتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنی رکنیت کے تحفظ کے لیے تمام آئینی و قانون راستے اپناؤں گا اور پارٹی کارکنان کے ساتھ کھڑا رہوں گا کیوں کہ میری آواز ان ہی کی آواز ہے۔
اپنے جواب میں انہوں نے پارٹی کے جنرل سیکرٹری عامر محمود کیانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے حیرت ہوئی کہ آپ پارٹی کے سیکرٹری جنرل بن گئے کیوں کہ میں بطور سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کے سینئر رہنما ارشد داد کو جانتا ہوں۔
حامد خان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ انہیں کیوں تبدیل کیا گیا بحرحال مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ آپ سیکرٹری جنرل بن گئے لیکن مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ آپ پر بطور وزیر صحت کرپشن کے الزامات تھے۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ میں توقع رکھتا ہوں کہ آپ ان الزامات سے بری ہوگئے ہوں گے تاہم اگر ایسا نہیں ہوا تو پہلے آپ خود کو الزامات سے پاک کرائیں تاکہ پارٹی کوشرمندگی کاسامنا نہ ہو۔اپنے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی قابل اعتراض ہے کہ شوکاز دینے سے قبل الیکٹرانک میڈیا میں تشہیر کی گئی۔انہوں نے یقیناً آپ کی جانب سےبدنیتی پر مبنی اقدام ہے کیوں کہ آپ کے اس الزام سے میری شہرت کو نقصان پہنچا، شوکاز نوٹس میں مخصوص الزام ہونا چاہیے اور اس کی وضاحت بھی ہونی چاہیے تاکہ اس کا بھرپور طریقے سے جواب دیا جاسکے لیکن میں اس کیلئے آپ کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا۔ حامد خان نے کہا کہ اگر ٹی وی چینل پر میرا کوئی انٹرویو ہے تو اس کی تفصیل بیان کی جائے اور اس کا واضح ثبوت پیش کیاجائے۔ان کا کہنا تھا کہ واضح الزام اور ثبوتوں کی عدم موجودگی میں شوکاز نوٹس کاکوئی جواب نہیں دیاجاسکتا، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے سچ بولنے کی کوشش کی کیونکہ سچ ہمیشہ پارٹی کے مفاد میں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی پارٹی پر کوئی الزام تراشی نہیں کی نہ کہ کوئی بدنیتی پرمبنی اقدام کیا، میں نے ہمیشہ پارٹی کی تحفظ کرنےکی کوشش کی اور ایسے الزامات کی نشاندہی کی جس سے پارٹی کو نقصان پہنچ سکتاہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اس جواب کے تناضر میں آپ کے تفصیلی جواب کا منتظر ہوں جس میں مجھ پر الزامات واضح طور پر بیان کیے جائیں جو قانون اور آئین کے مطابق ہوں تاکہ میں آئینی اور قانونی طورپر جواب دے سکوں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں