معاشی ٹیم کو ’پنڈی‘ جا کر باقاعدہ پریزٹیشن دینا پڑتی ہے

وزیراعظم کو طاقت کے استعمال سے قبل بیسیوں بار آدھ درجن افراد سے ان کی مرضی پوچھنا پڑتی ہے،کسی بھی ادارے کا سربراہ این او سی حاصل کیے بغیر نہیں لگایا جاتا۔ طلعت حسین

لاہورمعروف صحافی وکالم نگار اپنی حالیہ تحریر ’تولہ ماشہ طاقت‘ میں لکھتے ہیں کہ ایک نجی محفل میں پچھلے ہفتے پاکستان تحریک انصاف کے ایک وزیر ہوشیار بے مہار ترنگ میں آ گئے۔جب حاضرین نے حکومت کی درگت بنائی تو وہ پھٹ پڑے۔فرمانے لگے کہ عمران خان کیا کرے اس کو کٹی پھٹی طاقت دی گئی ہے۔جس کو استعمال کرنے سے پہلے اس کو بیسیوں بار آدھ درجن افراد سے ان کی مرضی پوچھنا پڑتی ہے،یہ کہا کہ فیصلہ سازی کا نظام اتنا بٹ چکا ہے کہ وزیراعظم کے پلے تولہ ماشہ طاقت ہی ہے۔سیر سوا سیر صاحب لوگوں کے پاس ہے۔نہ معشیت کی باگیں وزیراعظم کے ہاتھ میں ہیں،نہ مختلف وزارتوں پر فائز چیدہ افراد ان کے ہیں۔جب معیشت ،داخلہ، خارجہ ،تجارت اور دفاعی حکومتی کے سربراہ کے ہاتھ میں نہ ہو تو وہ کارگردگی کیا خاک دکھائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کا چئیرمین ہو یا محصولات کو بہتر کرنے کے لیے ہارون اختر کا چناؤ ،آئی ایم ایف سے چیلے لا کر سٹیٹ بینک میں بٹھانے ہوں یا بڑے ترقیاتی منصوبوں پر خرچہ کرنا ہو سب کچھ ایک غیررسمی لیکن ناگزیر این او سی حاصل کیے بغیر نہیں ہوتا۔اس دوران جب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارگرگی کے حوالے سے بات ہوئی تو وہ چیف سیکرٹری کا رونا رونے لگ گئے اور کہا کہ بزدار تو ایسا میزائل ہے جسے کو چلنے دہی نہیں دیا گیہا لہذا اس ہدف پرنہ پہنچنا ایک بے معنی تنقید ہے۔طلعت حسین مزید لکھتے ہیں کہ مذکورہ وزیر مزید کہتے ہیں کہ اس حالت میں وزیراعظم عمران خان کا حوصلہ ہی ہے کہ وہ تدبر اور برداشت کے ساتھ ساتھ بار بار یہ کہتے ہیں کہ ریاست اور حکومت کے ادارے اور محکمے ایک ہی پیج پر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں