بیوی اپنے شوہر کو زبردستی عورت مارچ میں شرکت کے لئے لے آئی

بیوی اپنے شوہر کو زبردستی عورت مارچ میں شرکت کے لئے لے آئی۔ بیوی اپنے شوہر اور کمسن بچے کو لے کر عورت مارچ میں پہنچ گئی، تابعدار شوہر خواتین کے حقوق کیلئے بیگم کا ساتھ دینے پر خود بھی خوش ہے۔ بیوی اور بیٹے کے ساتھ عورت مارچ میں شرکت کرنے والے شخص نے اردوپوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بیوی نے اسے عورت مارچ میں انے کیلئے آمادہ کیا اور وہ بھی خوش ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کی آواز اٹھانے کیلئے باہر نکلا ہے۔شوہر نے بیٹے کو اٹھا رکھا تھا اور اس نے کہا کہ اگر شامنگ مال میں پھرتے ہوئے وہ بیٹے کو اٹھا سکتا ہے تو یہاں بھی اپنی بیوی کا ساتھ دینے کیلئے اپنے بچے کو اٹھا کر اکیلا چل سکتا ہے۔

دوسری جانب ایس پی عائشہ بٹ بھی عورت مارچ میں شرکت کیلئے پہنچ گئی ہیں۔

لاہور میں خواتین کا مارچ جاری ہے جس کی سکیورٹی کی ذمہ داری ایس پی عائشہ بٹ نبھا رہی ہیں اس موقع پر انہوں نے اردوپوائنٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے گھر کے اور اپنے خاوند کے کام کرتی ہوں، میرے خاوند نے مجھے کبھی ‘تم’ کہہ کر نہیں بلایا اس لیے میں بھی انکی عزت کرتی ہوں، ہمارے معاشرے میں خواتین کو طاقت حاصل ہے۔

ایس پی عائشہ بٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں اپنی مرضی سے گھر کے کام کرتی ہوں کیونکہ مجھے اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں اگر اپنے خاوند کو کہوں کہ چائے بنا دیں تو بنا دیتے ہیں، وہ میری عزت کرتے ہیں اور میں انکی۔واضح رہے کہ آج پوری دنیا خواتین کے حقوق کا عالمی دن منا رہی ہے ۔ مردوں کے شانہ بشانہ چلتی خواتین کو ان کے حقوق، احترام دینے کے لیے 8 مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے۔یاد رہے کہ 1908ء میں نیویارک میں گارمنٹس فیکٹری میں کام کرنے والی خواتین ملازمین نے کام کی نوعیت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کی اور اپنے حقوق تسلیم کرائے جس کے اعزاز میں دنیا میں پہلی بار یوم خواتین امریکا میں 28 فروری 1909ء کو منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا اہتمام امریکا کی سوشلسٹ پارٹی نے کیا تاہم بعد میں اقوام متحدہ نے 1975ء میں باقاعدہ طور پر 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے نام سے منسوب کردیا جس کے بعد سے آج تک ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کے حقوق اجاگر کرنے کے لیے یہ دن منایا جاتا ہے۔