قوس قزاح کے رنگوں کا معدوم سمجھا جانے والا یہ سانپ 51 سال بعد نظر آیا ہے

لوریڈا میں دو خواتین نے قوس قزاح کے رنگوں جیسا رینبو سانپ دیکھ کر اس کی تصاویر بنائیں ہیں۔ 1969 کے بعد یہ پہلی بار ہے جب  اس علاقے میں اس سانپ کو دیکھا گیا ہے۔
ایف ڈبلیو سی فش اینڈ وائلڈ لائف  ریسرچ انسٹی ٹیوٹ  کی فیس بک پوسٹ کے مطابق ٹریسی کاؤتھن نے 4 فٹ کے اس  رینبو سانپ کو اکالا نیشنل فارسٹ میں  ہائیکنگ کے دوران دیکھا۔ اس سیاہ نیلے سانپ کے جسم پر سرخ اور پیلی پٹیاں ہوتی ہیں۔
فلوریڈا  میوزیم آف نیچرل ہسٹری نے تصدیق کی ہے کہ 1969 کے بعد  سانپ کی یہ نسل پہلی بار ماریون کاؤنٹی میں دیکھی گئی ہے۔میوزیم کا کہنا ہے کہ یہ سانپ زہریلا اور نقصان دہ نہیں ہوتا۔ میوزیم کا خیال ہے کہ  روڈمان ریزروائر میں پانی کی سطح بلند ہونے کے سبب یہ سانپ اپنے بل سے نکلنے پر مجبور ہوا ہے۔

اس سانپ کا دیکھا جانا اس وجہ سے اہم ہے کہ ماہرین  کے خیال میں سانپوں کی یہ نسل علاقے میں  معدوم ہو چکی تھی۔

فلوریڈا میں سنٹر فار بائیولوجیکل ڈائیورسٹی  نے 2010 میں  خطرے سے دوچارانواع کے قانون کے تحت  جنوبی فلوریڈا کے رینبو سانپوں کو خطرے سے دوچار نوع قرار دینے کے لیے ایک پٹیشن دائر کی تھی۔تاہم حکومت نے بغیر سروے کیے اس سانپ کو معدوم قرار دے دیا۔اس سنٹر نے  اس نوع کی زندگی کے واضح شواہد دینے والوں کے لیے 500 ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں