نوازشریف نے مریم نواز کو حکومت کیخلاف اہم پیغام دے دیا

سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ نوازشریف نے مریم نواز کوحکومت کیخلاف اہم پیغام دے دیا، مریم نواز نے نوازشریف کے پیغام کے بعد اہم رہنماؤں سے بات چیت کی، جس کے بعد ن لیگی رہنماء مزید متحرک ہوگئے ہیں، مریم نوازباہر نکل آئیں تو سیاسی تحریک حکومت کیلئے خطرہ بن جائے گی۔ انہوں نے اپنے تبصرے میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے آج پشاور میں جلسہ عام سے خطاب میں بھی وزیراعظم کم سپورٹس مین زیادہ نظر آئے، وزیراعظم نے کہا کہ میں اسپورٹس سے بہت سیکھتا ہوں۔عمران خان نے کرکٹ میں نام کمایا ، ورلڈ کہ جیتا، پھر سیاست میں آئے، 96ء میں سیاسی جماعت بنائی، اس وقت وعدے کیے کہ میں کرپٹ لوگوں کو نہیں لوں گا، نوجوانوں کو ساتھ پارٹی میں لوں گا، لیکن 22جدوجہد کے بعد انہیں اپنے وعدوں کے برعکس کمپرومائز کرنا پڑے۔

اب وقت نے اقتدار کا تاج ان کے سر سجا دیا، خیال تھا کہ وہ ماضی کے روائتی سیاستدانوں کی طرح سیاست نہیں کریں گے۔

یہ الگ سچی بات کہ انہوں نے شوکت خانم، نمل یونیورسٹی جیسے دو بڑے پراجیکٹ بنائے، لیکن یہ اس سے بھی بڑا سچ ہے کہ ہسپتال اور سکول تو عطیات پر چل جایا کرتے ہیں لیکن حکومت اور ملک چندے پر نہیں چلتے، ملک چلانے کیلئے معیشت کو ٹھیک کرنا پڑتا ہے، گورننس بہتر کرنا ہوتی ہے، ٹیکس وصولیاں ٹھیک کرنا ہوتی ہیں۔آج پشاور میں عمران خان باربار کہتے رہے جو ہارتا نہیں وہ سیکھتا نہیں، میں کہتا ہوں وزیراعظم صاحب ایک دوغلطیوں کے بعد اگر کوئی نہ سیکھے تو پھر ایسے جال میں پھنس جاتا ہے پھر نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اب آپ کو سوچنا ہوگا کہ آپ اتحادی جماعتوں کے سہارے پر اقتدار میں آئے، تینوں جماعتیں آپ کے ناراض ہیں، لیکن وہ کسی وجہ سے آپ کو نہیں چھوڑ رہے، آپ کے سامنے اپوزیشن بھی نہیں ہے۔مسلم لیگ ن کی قیادت باہر ہے، پیپلزپارٹی بھی چپ ہے۔ لیکن پھر بھی آپ نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے،لوگ آپ کے وعدوں کو یاد کررہے ہیں۔اگر آپ عوام کی بنیادی ضروریات پوری کردیں گے تو عوام آپ کے ساتھ ہوں گے۔90فیصد لوگ آپ سے ناامید ہوچکے ہیں۔اس تمام صورتحال میں آصف زرداری خاموش ہیں، اسی طرح سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 48گھنٹے پہلے اپنی صاحبزادی کو اہم پیغام بھجوایا ہے، جس پر مریم نواز نے کچھ اہم رہنماؤں سے بات چیت کی ہے، اگر یہ معاملہ حل نہ ہوا ،اور مریم نوازاس راستے پر چل پڑیں، جس سے ان کو گریز کروایا جارہا ہے، اس سے ایک سیاسی تحریک بن جائے گی، اس کا سب سے زیادہ خطرہ عمران خان کی حکومت ہوگا۔