نواز شریف کے دور میں بھی سندھ کو پورا حق نہیں دیا گیا.بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ نواز شریف کے دور میں بھی سندھ کو پورا حق نہیں دیا گیا. لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 10 سال گزر گئے ہیں نہ پچھلی حکومت اور نہ یہ حکومت کوئی منصوبہ لے کر آئی ہیں، دونوں عام آدمی پر بوجھ ڈالتی رہی ہیں.انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں بتایا تھا کہ ہم معاشی بحران کی طرف جا رہے ہیں، ہمیں اپنے مقامی معاشی ماہرین کو سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے.

انہوں نے کہا کہ سیاست تھوڑی دیر کیلئے چل سکتی ہے لیکن حقیقت کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی زیادہ تر معیشت غیر دستاویزی ہے، تحریک انصاف کی حکومت کے پاس معاشی بحران کے حل کا کوئی پلان نہیں.انہوں نے کہا کہ حکومت تذبذب کا شکار ہے، پہلے کہا گیا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے پھر چلے گے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مشکل فیصلے لیتے ہوئے عام طبقے کا خیال رکھے.

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 16 مہینے میں عوام کے معاشی قتل کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا بلاول بھٹو نے کہا کہ عام آدمی، مزدوراور کسان معاشی بدحالی کا شکار ہوچکا ہے، پیپلز پارٹی نے اپنی شرائط پر آئی ایم ایف سے ڈیل کی لیکن عوام پر بوجھ نہیں ڈالا.واضح رہے پچھلے ہفتے لاہور میں ہی خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ گلوبلائزیشن کے نام پر مزدوروں کے حقوق چھینے جا رہے ہیں، ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ماڈرنائزیسن، گلوبلائزیشن اور کمپیوٹر کے دور میں مزدور کی نوکری کا تحفظ کیسے ہو گا.انہوں نے کہاتھاکہ تحریک انصاف اور آئی ایم ایف کے مابین ڈیل کو ہم نہیں مانتے، اسے پھاڑ کر پھینک دیا جائے اور عوام کے حق کے لیے نئے مذاکرات کئے جائیں.ان کا کہنا تھا کہ خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ اپنے مزدوروں کے درمیان ہوں، پی پی اور مزدوروں کا بہت اہم رشتہ ہے، ان کے لئے اگر کچھ کام ہوا ہے تو وہ ہمارے دور میں ہی ہوا ہے.انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ سندھ میں مزدور کے ساتھ سب اچھا ہو رہا ہے کیونکہ سارا نظام ایسا ہے لیکن وہاں کا لیبر وزیر مزدور دشمن نہیں بلکہ اس کا دوست ہے‘ان کا کہنا تھا کہ نئی صدی میں دنیا بھر میں نئی مزدور پالیسی کی بات کرنا ہو گی، کم از کم اجرت اتنی ہونی چاہیئے کہ مزدور اپنا گھر چل سکے.انہوں نے کہا تھا کہ ہم حکومت میں آ کر ہمیشہ پنشن، تنخواہوں میں اضافہ کرتے ہیں کیونکہ اسی سے معیشت بہتر ہوتی ہے، 2008 سے 2013 تک کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں کہ اس دور میں کتنا روزگار پیدا ہوا، اس کے بعد روزگار بڑھا نہیں بلکہ مسلسل چھینا گیا.