کورونا وائرس کے عالمی وبا بننے کا خدشہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کے عالمی وبا بننے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ وبائی امراض کا خطرہ بہت حقیقی ہوگیا ہے.ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیدروس ایڈہانوم گریبیس نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر ہم اسے وبائی مرض بھی کہتے ہیں پھر بھی اس پر کنٹرول کرسکتے ہیں‘ڈبلیو ایچ او کے چیف نے کہا کہ یہ تاریخ کی پہلی وبائی بیماری ہوگی جس پر قابو پایا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم وائرس کے رحم و کرم پر نہیں ہیں.

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ چین اس وبا کو قابو میں لا رہا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مرض اپنی مدت پوری کرے گا ادھر دنیا کے کئی ماہرین اس سازشی تھیوری کو حقیقت قراردیتے ہیں کہ کورونا وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے جو”غلطی“سے یا جان بوجھ کر انسانوں پر ٹیسٹ کرنے کے لیے پھیلایا گیا ہے رپورٹس کے مطابق امریکا‘برطانیہ‘اسرائیل‘چین‘روس ‘فرانس سمیت کئی ملکوں کے درمیان حیاتیاتی ہتھیاروں کی دوڑبھی کئی دہائیوں سے جاری ہے.

امریکی ذرائع ابلاغ سمیت 2014-15 میں براعظم افریقہ میں تباہی مچانے والے ایبولا وائرس کو امریکی بائیولاجیکل وارفیئرکا حصہ قراردیدیا گیا تھا جس سے 11ہزار310اموات ریکارڈ کی گئیں مگر اس کا پھیلاﺅ افریقہ تک محدود رہا اسی طرح ”پیلا بخار“نامی وائرس جس سے 2013میں 45ہزار اموات ہوئیں ڈینگی وائرس اور سارس وائرس کو بھی عالمی طاقتوں کی جانب سے حیاتیاتی ہتھیاروں کے ٹیسٹ قراردیا جاتا رہا ہے.تاہم ماضی کے ان وائرس کے مقابلے میں کورونا انتہائی ہلاکت خیزواقع ہوا ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے کورونا وائرس کے بارے میں اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ ایڈز‘سمیت ماضی کے تمام وائرس کی خصوصیات لیے ہوئے ایک ایسا ہتھیار ہے جس کا کوئی توڑ ابھی تک سامنے نہیں آیا‘یہ وائرس انسانوں اور جانوروں دونوں کو متاثر کررہا ہے .اس وائرس کو پہلے عارضی طور پر 2019 نوول کورونا یا این کوو اور اب کوِوڈ 19 کا آفیشل نام دیا گیا ہے، کے بارے میں سب سے پہلے عالمی ادارہ صحت نے 31 دسمبر کو بتایا تھا اور جب سے اس کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہے تاکہ اس کی روک تھام کے لیے مربوط اقدامات کیے جاسکیں.عالمی ادارہ صحت کئی بار اسے عالمی وبا قراردینے کا عندیہ دے چکا ہے مگر دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے دنیا کا معاشی نظام مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا‘ا س وائر س کی وجہ سے ملک اپنے باڈربند کررہے ہیں جن ممالک میں وائر س تیزی سے پھیل رہا ہے ان کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی جارہی ہیں چین کی جانب سے سپلائی لائن میں تعطل آنے سے عالمی سطح پر اشیاءضروریہ کی قلت پیدا ہورہی ہے آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں ٹوائلٹ پیپرزتک کے لیے چھینا جھپٹی ہورہی ہے.چین کے سائنسدانوں نے اسے وائرس کے ایک خاندان کورونا وائرسز سے جوڑا ہے جس میں 2000 کی دہائی کا خطرناک سارس وائرس بھی شامل ہے کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں.کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصہ ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے.ایک بار جسم میں داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتا ہے اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرس بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے اور پھر انہیں دیگر جگہوں پر بھیجنے لگتا ہے، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے.عموماً اس طرح کا وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوتا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے‘ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی( ایڈز) کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرس نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں.سارس یا مرس جیسے کورونا وائرس آسانی سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوجاتے ہیں، سارس وائرس 2000 کی دہائی کی ابتدا میں سامنے آیا تھا اور 8 ہزار سے زائد افراد کو متاثر کیا تھا جس کے نتیجے میں 800 کے قریب ہلاکتیں ہوئیں سارس 2010 کی دہائی کے ابتدا میں نمودار ہوا اور اڑھائی ہزار کے قریب افراد کو متاثر کیا جس سے 850 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں.طبی جریدے جنرل آف میڈیکل وائرولوجی میں شائع ایک رپورٹ میں چین کے محققین نے عندیہ دیا تھا کہ سانپوں میں 2019 کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا باعث بننے والا ممکنہ جاندار ہے، اس مقصد کے لیے انہوں نے وائرس کے جینیاتی کوڈ کا تجزیہ کرنے کے بعد اس کا موازنہ 2 اقسام کے سانپوں میں چینی کوبرا اور کرایت سے کیا گیامحققین کے مطابق سانپوں کا جینیاتی کوڈ اور اس وائرس میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے.علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے مہلک کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے عالمی معیشت میں کساد بازاری پر خبردار کردیا تھا اقوام متحدہ کی تجارت برائے ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کے رچرڈ کوزول رائٹ نے واضح کیا تھا کہ رواں برس عالمی معیشت کو 10 کھرب سے 20 کھرب ڈالر کے درمیان نقصان پہنچ سکتا ہے.دوسری جانب جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اس سوچ کی نفی کی تھی کہ نئے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو کم کرنے کے اقدامات بیکار ہیں انہوں نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں وائرس پھیلنے کی وجہ سے یورپ سمیت دوسری جگہوں پر اسٹاک کے حصص تنزلی کا شکار رہے.