گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کا نیا کیس سامنے آگیا

گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کا نیا کیس سامنے آگیا جس کے بعد پاکستان میں کیسز کی مجموعی تعداد 20 ہوگئی ہے اس حوالے سے گلگت بلتستان کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر شاہ زمان نے اسکردو کے 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق کی اور بتایا کہ متاثر لڑکا اپنی والدہ کے ساتھ 25 فروری کو ایران سے پاکستان پہنچا تھا.ڈاکٹر شاہ زمان نے بتایا کہ متاثرہ لڑکا 4 اور 5 مارچ کی شب اہل خانہ کے ہمراہ اسکردو پہنچا تھا جہاں 6 مارچ کو اس میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں اور انہیں آئسولیش وارڈ منتقل کردیا گیا.

انہوں نے بتایا کہ 6 مارچ کو بھیجی گئی رپورٹ پر اسلام آباد کی لیبارٹری نے 7 مارچ کو تصدیق کی کہ متاثرہ فرد کا ٹیسٹ مثبت آیا ڈاکٹر شاہ زمان کا کہنا ہے کہ زین علی کے تمام خاندان کے نمونے حاصل کرکے تصدیق کے لیے لیب بھجوادیے گئے ہیں.انہوں نے متاثرہ فرد کے بارے میں بتایا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ زیارت کے لیے ایران گیا تھا پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی تھی 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز‘3 مارچ کو1کیس‘6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا جس سے تعداد 6 ہوئی‘8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا‘9مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی‘10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 ہوگئی تھی.دسمبر 2019 کے وسط سے چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کورونا وائرس 11 مارچ 2020 تک دنیا کے 118 ممالک تک پہنچ چکا تھا اور اس سے دنیا بھر میں ایک لاکھ 19 ہزار 133 افراد متاثر ہو چکے تھے اگرچہ اب بھی متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ چین سے ہے، تاہم حیران کن طور پر گزشتہ 2 ہفتوں سے چین میں کورونا وائرس میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے.کورونا وائرس کے آغاز میں چین سے یومیہ ایک سے تین ہزار افراد کے شکار ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں تاہم اب وہاں سے 40 سے 50 افراد کے متاثر ہونے کی خبریں سامنے آرہی ہیں اور چین حکومت نے کورونا وائرس پر تقریبا قابو پانے کا دعویٰ بھی کیا ہے.

تشویش کی بات یہ ہے کہ جہاں کورونا وائرس چین سے مسلسل کم ہورہا ہے، وہیں مذکورہ وائرس دوسرے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے‘چین میں ریکارڈ مریضوں کی وجہ سے اگرچہ براعظم ایشیا اب تک کورونا وائرس کے مریضوں کے حوالے سے سرفہرست ہے، تاہم گزشتہ 2 ہفتوں سے اس وائرس کو ایشیا کے بجائے یورپ اور امریکا میں تیزی سے پھیلتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے.رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب چین کے بجائے اٹلی میں یومیہ بنیادوں پر سب سے زیادہ مریض سامنے آ رہے ہیں جب کہ امریکا میں بھی معمول اور اندازوں سے زیادہ مریضوں کے سامنے آنے سے وہاں خوف پھیل چکا ہے‘اٹلی میں 11 مارچ کی سہ پہر تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 10 ہزار 149 تک جا پہنچی تھی جبکہ امریکا میں مریضوں کی تعداد ایک ہزار 30 تک جا پہنچی تھی.برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ چند دن کے کیسز کو دیکھنے سے اندازا ہوتا ہے کہ کورونا وائرس اب براعظم یورپ اور امریکا میں تیزی سے پھیل رہا ہے اگرچہ یورپ میں سب سے زیادہ مریض اٹلی میں ہیں تاہم دیگر یورپی ممالک جن میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، اسپین، سوئٹزرلینڈ، ناروے، نیدرلینڈ، سویڈن، بلیجیم، ڈنمارک اور آسٹریا‘ جیسے ممالک شامل ہیں، وہاں مسلسل کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے.یورپ میں کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے پہلے نمبر پر ’اٹلی، دوسرے نمبر پر فرانس، تیسرے نمبر پر اسپین، چوتھے پر جرمنی اور پانچویں نمبر پر سوئٹزرلینڈہے.امریکا میں جہاں کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے میوزیکل پروگرامات منسوخ کردیے گئے ہیں، وہیں وہاں پر کئی شہروں کے مارکیٹس بھی بند کردیے گئے ہیںامریکی ریاست نیویارک میں تو کورونا وائرس کے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر قرنطینیہ میں موجود افراد کی حفاظت اور انہیں اشیا پہنچانے کے لیے فوج کو تعینات کردیا گیا ہے.کورونا وائرس کے انٹرنیشنل لائیو میپ کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں اب کورونا کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، علاوہ ازیں ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی کورونا وائرس اتنی تیزی سے نہیں پھیل رہا، جتنی تیزی سے یورپ و امریکا میں پھیل رہا ہے.اگر ایشیا میں جنوبی ایشیائی خطے کی بات کی جائے تو اس خطے میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار یورپ سے کم ہے اور یہاں مجموعی طور پر بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال، سری لنکا اور بھوٹان‘ کے مجموعی مریضوں کی تعداد 100 سے بھی کم ہے.جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض سوا ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک بھارت میں ہے، جہاں 11 مارچ تک مریضوں کی تعداد 60 تک جا پہنچی تھی، دوسرے نمبر پر پاکستان ہے جہاں مریضوں کی تعداد 20 تک جا پہنچی تھی‘افغانستان میں 5، ، بنگلہ دیش میں 3، سری لنکا میں 2، بھوٹان میں ایک اور نیپال میں بھی ایک مریض کی تصدیق کی جا چکی ہے.جنوبی ایشیا میں جہاں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار دیگر خطوں سے کم ہے، وہیں اس خطے میں اس مرض سے ہلاکتیں بھی بہت کم ہوئیں اور اس خطے میں کورونا وائرس کے صرف 4 مریض ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق بھارت سے ہے‘جنوبی ایشیا کے علاوہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار اتنی تیز نہیں جتنی امریکا اور یورپ میں ہے.

گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کا نیا کیس سامنے آگیا