وزیراعظم کا ملک بھر میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کورونا وائرس کے پیش نظر ملک بھر میں صحت ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزرائے اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ مسلح افواج کے سربراہان بھی شرکت کر رہے تھے یاد رہے کہ کورونا سے متعلق اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اپنی سرحدیں بند کر دینی چاہیے.انہوں نے کہا کہ واحد سندھ میں ہم کورونا وائرس کے خطرے سے لڑ رہے ہیں میں شدید پریشان ہوں کہ اس کا سدباب کس طرح کریں‘وزیراعلی سندھ نے کہا کہ قرنطینہ کا کام وفاقی حکومت کا ہے جو نہیں ہو رہا، مجھے نہیں لگ رہا کہ ان کی قومی سطح پر کوئی تیاری ہے انہوں نے کہا کہ صوبے بتا رہے ہیں کہ ہم نے یہ تیاری کی ہے لیکن قومی سطح سے کوئی رہنمائی نہیں ملی.ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پروفاقی حکومت کوانتظام کرنے ہیں وہ نہیں ہو رہے،تفتان پرلوگ گروپس میں رکھے گئے ہیں،جس کوہم قرنطینہ نہیں کہہ سکتے مراد علی شاہ نے کہا کہ اٹلی میں لاک ڈاﺅن کیا گیا ہے لیکن ہمیں پتہ نہیں کہ وہاں سے کتنے لوگ آئے ہیں.انہوں نے کہا کہ سندھ میں کیسز ظاہر ہونےکی وجہ یہ ہے کہ ہم زائرین کے ٹیسٹ کروا رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ سکول سوائے بلوچستان کے سب نے کھولے ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ظفرمرزاکامیں شکرگزارہوں جوہمیشہ رابطے پرموجودہوتے ہیں، ہمیں اپنے طبی ماہرین کو بھی محفوظ رکھناہے.ان کا مزید کہنا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ائیرپورٹ پرآتے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ کسی کو نزلہ یا بخار تشخیص نہ ہو انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اپنے نتظامات کا دوبارہ قومی سطح پرجائزہ لیناہو گا تاکہ اس وائرس کےخطرے سے نمٹ سکیں۔