کرونا وائرس کے باعث ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کیلئے سعودی عرب نے 50ارب ریال کے پیکج کا اعلان کردیا

سعودی عرب کے مرکزی بینک نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو کورونا وائرس پھیلنے کے معاشی اثرات سے نمٹنے میں مدد کے لئے 50 ارب ریال (13 بلین ڈالر) کا پیکیج تیار کیا ہے۔ سعودی عرب مانیٹری اتھارٹی (سما) کی طرف سے دی جانے والی مالی اعانت کا مقصد ایس ایم ایز کو بینک کی ادائیگی ، مراعاتی مالی اعانت اور قرض کی ضمانت کے پروگرام کے اخراجات پر چھ ماہ کی چھوٹ دینا ہے۔
دوسری جانب کورونا وائرس کے انسداد کے لئے کی جانے والی حکومتی کوششوں کے اعتراف میں اور وباء کو محدود رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے والے سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کی بڑی تعداد نے اپنی سماجی سرگرمیاں محدود کردیں۔

ریاض سمیت جدہ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، دمام اور الخبر کے علاوہ تمام بڑے شہروں میں آبادی کی بڑی تعداد نے خود کو گھروں تک محدود کر لیا ہے۔

سعودی شہریوں نے میل ملاپ اور تقریبات سے مکمل طور پر اجتناب کر رکھا ہے۔ یہی حال بعض غیرملکیوں کا بھی ہے۔گھروں تک خود کو محدود رکھنے کے باعث بڑے شہروں کی سڑکیں ویران اور بازار سنسان ہوگئے ہیں۔ وزارت صحت نے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو انتہائی ناگزیر حالت کے علاوہ باہر نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔ٹوئٹر صارفین نے ’’گھرمیں رہو‘‘ ہیش ٹیگ جاری کیا ہے جو سعودی عرب میں ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔
وزارت تعلیم کے سابق ترجمان مبارک العصیمی نے کہا ہے کہ ’گھر میں رہنا قومی فریضہ بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی وزارت صحت کے مطابق ایسے تمام افراد جو 13 مارچ یا اس کے بعدوطن آئے ہیں وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے دو ہفتوں تک گھروں تک محدود رہیں۔سعودی وزارت صحت کے ٹویٹر اکائونٹ پر جاری تفصیلات کے مطابق وزارت صحت نے مختلف ممالک سے آنے والوں کے لیے الگ الگ شیڈول جاری کیا ہے جس کے مطابق چھٹی لی جاسکتی ہے۔