سعودی عرب میں کاروباری مراکز پر پابندی کے بعد ہر طرف سناٹا چھا گیا

سعودی مملکت میں کورونا وائرس کو قابو میں لانے کے لیے کڑے انتظامی فیصلے لیے گئے ہیں جن کے تحت مملکت بھر میں شاپنگ مالز، ریستوران، شیشہ مراکز، باربر شاپس اور بیوٹی پارلرز کو 2 ہفتوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم بہت سے کاروباری مراکز ایسے ہیں جنہوں نے انتظامیہ کے اس فیصلے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آج سوموار کے روز کاروبار جاری رکھنے کی کوشش کی۔
ریاض، جدہ اور دیگر علاقوں کی میونسپل انتظامیہ نے خلاف ورزی کرنے والوں کی دُکانیں سربمہر کر دیں اور انہیں بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ سعودی ویب سائٹ سبق کے مطابق مملکت بھر میں شاپنگ مالز، ریستوران، شیشہ مراکز، باربر شاپس اور بیوٹی پارلرز کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

میونسپلٹیز کی جانب سے مملکت بھر میں تفتیشی دورے کیے جا رہے ہیں۔

پابندی عائد ہونے کے دوران اب تک 8398 باربر شاپس، بیوٹی پارلر اور شیشہ مراکز کو خلاف ورزی پرسر بمہر کر دیا گیا ہے۔

میونسپلٹی نے خبردار کیا ہے کہ دُکانوں کو سربمہر کرنے کے ساتھ ساتھ دُکانوں کے مالکان پر جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد بھی لاگو کی جائے گی۔ اکثر مقامات پر میونسپلٹی اہلکار عوام کو جھمگٹا لگانے سے بھی روک رہے ہیں کیونکہ سعودی حکومت نے لوگوں کے اجتماع پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
پابندی کے بعد سے مملکت کے بھیڑ بھاڑ اور رش سے بھرے بازاروں میں ہُو کا عالم ہے۔ بڑی بڑی مارکیٹس میں دُور دُور تک نہ بندہ نہ بندے کی ذات دکھائی دے رہی ہے۔مملکت میں ایسا بہت کم ہوتا ہے، اکثر تہواروں پر بھی تھوڑی بہت دُکانیں کھُلی رہتی ہیں۔ سبق کے مطابق وزارت بلدیات و دیہی امور کی جانب سے بیوٹی پارلرز، تفریحی مراکز، ریستوران، باربر شاپس اور شاپنگ مالز بند کرنے کے علان کے بعد ہی تمام دُکانیں بند ہو گئی تھیں۔

اس وقت ریاض، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ سمیت دیگر علاقوں میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔ جدہ کے ساحل سمندر کورنیش پر بھی گورنریٹ فورس کے اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ کاروباری مراکز کی بندش کے بعد سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد بھی بہت کم دکھائی دے رہی ہے۔صرف فارمیسیز اور اشیائے ضرورت کے چند کاروباری مراکز کھُلے ہیں۔ تمام تفریحی پارکس کو بھی عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔