وزیراعظم عمران خان آج قوم سے خطاب کریں گے

کرونا وائرس نے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑھنا شروع کر دئیے ہیں۔ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 195 ہو گئی ہے جس کے بعد عوام میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ان حالات میں وزیراعظم نے قوم سے خطاب کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان آج قوم سے خطاب کریں گے۔وزیراعظم ہاؤس میں خطاب کی ریکارڈنگ کے انتظامات شروع کر دئیے گئے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کرونا وائرس سے متعلق قوم کو اعتماد میں لیں گے۔عمران خان قوم کو کرونا وائرس سے متعلق حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں گے۔قوم سے احتیاطی تدابیر پر بھی بات کریں گے۔ وزیراعظم قوم کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے اس سے قبل کہا تھا کہ کرونا وائرس سے متعلق جلد قوم سے خطاب کریں گے، قوم کو کرونا وائرس سے متعلق ساری صورتحال سے خود آگاہ کروں گا، عالمی ادارہ صحت نے کرونا کے تدارک کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔

انہوں نے ٹویٹر پر قوم کو اپنے پیغام میں بتایا کہ حکومت پاکستان کرونا وائرس کے خطرات سے چوکنا ہے۔ پاکستانی عوام کی حفاظت اور صحت کے لیے کافی اقدامات اٹھائے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی ہماری کوششوں کو دنیا میں قابل ستائش قرار دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے تمام تر حکومتی اقدامات کی میں ذاتی طور پر خود نگرانی کر رہا ہوں اور جلد ہی قوم سے خطاب کروں گا۔
جس میں قوم کو موجودہ تمام تر صورتحال سے آگاہ کروں گا۔ عوام کو ہدایت کرتا ہوں کہ کرونا وائرس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ عوام حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

اس سے قبل وزیراعظم اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ وائرس زیادہ پھیلا تو اس سے نمٹنے میں مشکل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے جس کے باعث وہ کورونا وائرس کا زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ وزیر اعظم نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ کورونا وائرس جیسی وباء سے نمٹنے کے لیے غریب اور ترقی پذیر ممالک کے قرضے معاف ہونے چاہئیں۔