کرونا وائرس کا خطرہ،پاک فوج عوام کی خدمت کے لیے پیش پیش

کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاک فوج عوام کی خدمت کے لیے میدان میں آ گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج نے تمام طبی سہولیات کرونا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے وقف کر دیں۔ ملٹری اسپتال میں کرونا معانت ڈیسک تشکیل دے دیا گیا ہے۔ملک بھر کے فوجی اسپتالوں میں کرونا وائرس کی جانچ کے لیے لیبارٹری موجود ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کی 13مارچ کی سفارشات پر موثر عملدرآمد جاری ہے۔ آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف پتھالوجی میں مرکزی لیبارٹری قائم کر دی گئی ہے۔ملٹری اسپتال میں کووڈ-19 معاونت ڈیسک تشکیل دے دیا گیا ہے۔مسلح افواج،حکومت اور صوبائی انتظامیہ کی مکمل معاونت کر رہےہیں۔مسلح افواج کی تمام طبی سہولیات آپریشنل ،ہر قسم کی صورت سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ مسلح افواج صورتحال سے نمٹنے کے لیے سول حکومت کے ساتھ ہے۔آرمی چیف نے کمانڈرز کو تمام ضروری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر فوری اقدامات کیے جائیں۔مسلح افواج صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاق و صوبائی انتظامیہ سے رابطے میں ہے۔ گذشتہ ہفتے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت کورکمانڈرز کانفرنس ہوئی۔
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو تیاریاں تیز کرنے کی ہدایت کی تھی، جس میں ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے قومی سطح پر اقدامات کی بھرپور مدد کی جائے کانفرنس میں لائن آف کنٹرول کی صورتحال، جیواسٹریٹجک ماحول، مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ، افغان امن عمل سمیت مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کورونا وباء سے نمٹنے کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔ کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو تیاریاں تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔ آرمی چیف نے کہا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے قومی سطح پر اقدامات کی بھرپور مدد کی جائے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ علاقائی امن واستحکام کا راستہ افغانستان سے ہوکر گزرتا ہے۔ مشترکہ کوششوں اور تحمل کے ساتھ تمام چیلنجز پر قابوپایا جاسکتا ہے۔ پاکستان مخلصانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔