ملازمین اگرنہیں بھی آرہے، لیکن تنخواہ پوری ملے گی، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملازمین اگرنہیں بھی آرہے، لیکن تنخواہ پوری ملے گی، ڈیلی ویجز ملازمین کو نکالا نہیں جائے گا، مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ ہماری مدد کریں، وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے اسے ہرپاکستانی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔
کراچی میں فلیڈ ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ کہنا غلط ہے کہ کورونا وائرس صرف بزرگوں کومتاثر کرتا ہے، بلکہ کورونا کو ہر پاکستانی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت وزیراعظم پر تنقید کرنے کا نہیں بلکہ یہ کہوں گا کہ وزیراعظم نے جو تقریر کی اس میں اقدامات کا تذکرہ نہیں تھا۔

وفاقی حکومت کو کورونا وائرس کو سنجیدگی سے لے، صرف یہ نہ کہے کہ ہم اس کا مقابلہ کرلیں گے؟ میں جانتا ہوں کہ ہمارے اندر کمزوریاں ہیں، ہمیں مقابلہ کرنے کیلئے لیڈرشپ کی ضرورت ہے، ہمارا لیڈر اور وزیرصحت اس وقت وزیراعظم ہیں، میں ان پر تنقید نہیں کروں گا بلکہ ان سے لیڈرشپ کی درخواست کروں گا۔

چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ کے غریبوں سے کہتا ہوں کہ فکر نہ کریں ان کے گھروں میں راشن پہنچایا جائے گا۔مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ ہماری مدد کریں۔ڈیلی ویجز ملازمین کو اداروں سے نہیں نکالا جائے گا۔ملازمین اگر نہیں بھی آرہے تو ان کو پوری تنخواہ دی جائے۔ ہم نہیں چاہتے کہ صوبے کو لاک ڈاؤن کریں، ہم صرف بیماری کا مقابلہ کرنے کیے اقدامات اٹھا رہے ہیں، کیونکہ شہریوں کی صحت کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹرز اور نرسز، سٹاف کا تحفظ بھی یقینی بنائیں گے۔ اسی طرح ہمیں وائرس سے مقابلہ کرتے ہوئے معیشت کو بھی مضبوط کرنا ہے۔ آج بھی ہم وفاقی حکومت سے کہتے ہیں کہ ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ کٹس کی خریداری کیلئے صوبوں کی مدد کرے۔ ہم وزیراعظم سے کہتے ہیں کہ ہم نے وفاق کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے، اس لیے وزیراعظم کو چاہیے کہ صوبوں کے ساتھ مل کرہر وہ کام کریں تو وائرس کیلئے کرنا چاہیے۔