کورونا سے نمٹنے کے واحد حل پر عمل کرنے میں تاخیر کیوں؟ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

پاکستان میں کورونا وائرس تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔مزید نئے کیس سامنے آنے کے بعد پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 543 ہوچکی ہے۔سندھ میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 267 ہے۔جن میں سے تین مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔پنجاب میں کرونا وائرس کے مجموعی مریضوں کی تعداد 104 ہوگئی ہے۔بلوچستان میں ہفتے کے روز کرونا وائرس کے مزید 12 کیسز سامنے آئے،صوبے میں اب تک104 کورونا وائرس کے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں 25 کیسز کی تصدیق کی ہے۔گلگت بلتستان میں بھی کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور تعداد 30 تک جا پہنچی ہے۔آزاد کشمیر سے تاحال کرونا وائرس کا ایک ہی کیس رپورٹ ہوا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے جس پر قابو پانے کے لیے اقدامات ناکافی ہیں۔کئی ممالک میں کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے،تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے لاکھ ڈاؤن کا اعلان نہیں کیا جارہا۔

حکومت کا یہ خیال ہے کہ لاک ڈاؤن سے غریب آدمی کا روزگار متاثر ہو گاجبکہ کھانے پینے کی کی چیزوں میں کمی ہوگی۔لیکن عام عوام کی طرف سے حکومت کے اس فیصلے کو اب نہیں سراہا جارہا۔سیاسی اور سماجی شخصیات کی طرف سے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملک میں لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اٹلی نے بھی ایک ماہ قبل وہی غلطی کی تھی جو آج پاکستان میں ہورہی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اٹلی میں کورونا کی وجہ سے چین سے بھی زیادہ اموات ہوئیں۔
لہذا پاکستان جیسا ملک جہاں ابھی کرونا وائرس دوسرے ممالک کی نسبت اتنا زیادہ نہیں پھیلا اس پر بروقت لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کرکے قابو پایا جاسکتا ہے۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کے لیے روزگار سے زیادہ جان ضروری ہے۔سوشل میڈیا پر بھی اور دیگر شخصیات کی جانب سے بھی ملک میں لاک ڈاؤن کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔اس حوالے سے امریکہ کہ میں مقیم ایک پاکستانی نے وزیراعظم عمران خان پر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کا واسطہ ہے ہمیں اموشنل فول بنانا چھوڑ دیا جائے۔
وزیراعظم کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہیں لیکن کیا یہ کوئی مذاق چل رہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے ہزاروں اموات ہوچکی ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا سپورٹر ہیں اور عمران خان کو تبدیلی لانے کے لئے ووٹ دیا لیکن یہ کوئی کرکٹ نہیں ہے جس میں سب کو گھبرانا نہیں ہے کہا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں نامور اداکار و میزبان فخر عالم نے بھی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملک میں 2 ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کرنے کی درخواست کی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے فخر عالم نے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان اس سے قبل کہ دیر ہوجائے، میری درخواست ہے کہ لاک ڈاؤن کریں، میں جانتا ہوں آپ اس وقت معاشرتی بدامنی کی وجہ سے پریشان ہوں گے تاہم ہم اس سے کہیں زیادہ خراب صورتحال میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اپنی ویڈیو میں فخر عالم نے کہاکہ عمران بھائی ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کے دل میں انسانیت کے لیے، انسانوں کے لیے، غریبوں کے لیے، پاکستانیوں کے لیے کیا جگہ ہے، اس میں کوئی شک کی بات نہیں، آپ ایک نیک انسان ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس وقت آپ کی قیادت کو سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری آپ سے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے گزارش ہے، میں غلط بھی ہوسکتا ہوں تاہم ایک طرف سرکار یہ کہہ رہی ہے کہ لوگ گھر پر رہیں، دفاتر نہ جائیں، باہر نہ نکلیں، سماجی تنہائی اختیار کریں، اس کے نتیجے میں جو غریب طبقہ ہے وہ ویسے ہی متاثر ہورہا ہے۔ فخر عالم کے مطابق حکومت نے آدھی پالیسی بنائی ہے کہ غریب طبقہ روزی کمانے کے لیے باہر نکل سکتا ہے تاہم باقی لوگ نہیں نکل سکتے ہیں،عمران خان میری آپ سے گزارش ہے کہ آدھی آدھی پالیسی رکھنے کے بجائے ایک پالیسی بنائیے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ دو ہفتوں کے لیے شہروں کے مختلف پوائنس پر راشن بانٹنا شروع کردیں اور کرفیو جیسا لاک ڈاؤن کردیں تو یہ بہتر فیصلہ ہوگا

اسی طرح پاکستان کی معروف سیاستدان شیریں رحمان نے کہا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کا واحد حل لاک ڈاؤن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب ہے کہ صرف ضروری اشیاء فراہم کرنے والی سروس کھلی رہیں۔ یہ معاشی طور پر سخت فیصلہ ہے ، لیکن اب اس سخت فیصلےکا انتخاب کرنا پڑے گا۔ ہمیں سب سے پہلے جان بچانی ہے۔ حکومتوں اور شہریوں کو اس کو فروغ دینا ہوگا۔