کورونا کےعلاج کیلئے ملیریا کی دوائی کلوروکوئن کی ایکسپورٹ پر پابندی عائد

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورونا کے علاج کیلئے ملیریا کی دوائی کلوروکوئن کی ایکسپورٹ پر پابندی عائد کردی ہے، پاکستان میں کلوروکوئن کی تیار دوائی اور خام سٹاک سب موجود ہے، لیکن اس کے شواہد نہیں ملے کہ کلوروکوئن سے مریض ضروری ٹھیک ہوگا،میڈیکل بورڈ بنا دیا ہے، جو کلوروکوئن کے استعمال کا فیصلہ کرے گا۔
انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ کلوروکوئن سے متعلق سوشل میڈیا پر خبریں گردش کررہی ہیں کہ مارکیٹ سے یہ دوا غائب ہوگئی ہے، لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کورونا کے علاج کیلئے ملیریا کی دوائی کلوروکوئن کی ایکسپورٹ پر پابندی عائد کردی ہے۔ پاکستان میں کلوروکوئن کی تیار دوائی اور خام سٹاک سب موجود ہے۔

لیکن اس کے شواہد نہیں ملے کہ کلوروکوئن سے مریض ضروری ٹھیک ہوگا۔

وائرس کےعلاج کیلئے کلوروکوئن کے استعمال پر ماہرین کی رائے لے رہے ہیں۔ کہ کورونا کے علاج کیلئے کلوروکوئن کو کب کیسے اور کتنی مقدار میں اور کس کے مشورے سے استعمال کرنا ہے، یہ سب دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شواہد نہیں کہ کلوروکوئین کھانے سے کورونا سے محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ویب سائٹ پر ڈیٹا گھنٹے کے حساب سے اپ ڈیٹ کیا جائےگا۔
پاکستان میں اس وقت مشتبہ مریضوں کی تعداد 5650 ہے، جبکہ تصدیق شدہ کیسز 646 ہیں۔ پنجاب میں کورونا وائرس سے بیمار افراد کی تعداد 152، سندھ 292، بلوچستان میں 104 ہے۔ خیبرپختونخوا میں 31، گلگت بلتستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 55 ہے۔ آزاد جموں کشمیر میں 1 اور اسلام آباد میں کورونا کے11 مریض ہیں۔ تین لوگ اس بیماری سے انتقال کرگئے ہیں، انہوں نے کہا کہ5 ہزار ڈاکٹرز کو کورونا وائرس کے علاج کی تربیت دی جائے گی۔ پھر اس سے مزید ڈاکٹرز کو تربیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔