تمام کرونامتاثرین کے مفت علاج کا مطالبہ: میاں زاہد حسین

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کاروباری برادری وزیر اعظم کی جانب سے اکنامک ریلیف پیکیج کے لئے پر اُمید ہے۔یہ پیکیج زمینی حقائق اور عوام کی خواہشات کا عکاس ہونا چائیے۔
میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس نے 192 ممالک کو متاثر کیا ہے اور اسکا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔تقریباً تمام ممالک اس وباء سے نمٹنے کے لئے مختلف اقدامات کر رہے ہیں جس میں شرح سود میں زبردست کمی اور معاشی بحالی کے اقدامات شامل ہیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی اس سلسلہ میں ایک پیکیج کا اعلان کرنا ہے جس سے معیشت کو سنبھالا ملے گا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کرونا وائرس کے تمام متاثرین کے لئے مفت علاج معالجے کی سہولیات کا اعلان کرے جبکہ بحران کے خاتمہ تک شرح سود کو صفر کیا جائے تاکہ معیشت کو تباہی سے بچایا جا سکے ۔ حکومت اگلے6 ماہ کے لئے ایس ایم ایز اور دکانداروں کے لئے صفر شرح سود پر قرضوں کا اعلان کرے جبکہ ان شعبوں کے لئے100 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان بھی کرے تاکہ وہ اگلے3 ماہ تک اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے قابل ہو سکیں جبکہ تاجروں کے گیس اور بجلی کے بل 3ماہ تک معاف کر دئیے جائیں۔
روزانہ کی بنیاد پر اُجرت کمانے والوں کو احساس پروگرام کے تحت3 ماہ تک امداد دی جائے جبکہ درآمد و برآمدکنندگان کے بقایا جات فوری طور پر ادا کرتے ہوئے ڈیمرج ، کنٹینر چارجز اور تاخیر سے کلیئرنس کروانے کے چارجز بھی ختم کئے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ایمپلائیز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن کے ذریعے کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین کی تنخواہوں میں سبسڈی دی جائے ، ٹرن اوور ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس میں رعایت دی جائے جبکہ توانائی کے بلوں میں 25فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کو آئل امپورٹ بل کی مد میں اربوں ڈالر کی بچت ہو رہی ہے جبکہ دیگر اخراجات کی مد میں بھی بھاری بچت ہوئی ہے جبکہ کرونا وائرس کی وجہ سے بین الاقوامی ادارے اور دیگر ممالک بھی مدد کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ مطالبات حکومت کی مالی استعداد سے زیادہ نہیں ہیں اس لئے عوام کو ریلیف دینے کے لئے ان تجاویز پر عمل درآمد کیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں